واقعات صحیحہ — Page 86
۸۶ تھی۔اس طرح میں کہوں گا کہ میں نے خلا میں ملا میں گفتار میں کردار میں تحریر میں تقریر میں غرض ہر حال میں دس برس کے دراز اور گہرے تجربہ سے حضرت مرزا صاحب کو صادق اور مستحق ان دعووں کا پایا جو وہ کرتے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے اُن کی خدمت میں بیٹھا ہوں۔پھر میں کہتا ہوں کہ میں ہر بات کو خدا کے لئے سنتا ہوں اور کوئی تعصب مجھے مجبور نہیں کرتا کہ میں باہر کی آوازوں کی طرف بہرے کان کر دوں۔مگر افسوس ہر ایک مستعجل معترض میں عادة دو صریح ظلم پا کر یقین اور بصیرت میں كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شان نمایاں ترقی کرتا ہوں کہ لا ریب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی وہی مسیح اور مہدی ہیں۔جو خدا تعالیٰ کے کل راست بازوں کی زبان پر اور آخری زمانہ میں خاتم النبین صلے اللہ علیہ وسلم کی زبان پر موعود ہوئے ہیں۔افسوس ظلم اور اعتساف میں اس معترض کو اُس کے گزشتہ بزرگوں سے جو اس نادرفن میں زندہ نشان چھوڑ گئے ہیں بہت بڑھ کر میں نے پایا ہے۔خدا ترسی اور تقویٰ اس امر کو چاہتا تھا کہ اعتراض کرنے سے پہلے معترض صاحب دھیان کرتے کہ اُن کے یہی چھوڑے ہوئے تیر کہیں قرآن کے نازک ورقوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کو تو نہ چھید ڈالیں گے۔اور حق تھا کہ کچھ عرصہ تو ایسے شخص کی صحبت میں رہ کر حسن ظن اور صبر سے اُس کے حالات کو دیکھتے اور اُس کے مختلف متعلقات سے اندازے لگاتے اتنا بڑا دعوی یعنی زمانہ کا منجی و مصلح ہونا خدا تعالیٰ کا مرسل و مامور ہونا۔حضرت سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بروزوں محمد واحمد کا جامع اور محل ہونا۔آدم کہلا نا۔نوح کہلانا۔ابراہیم کہلا نا۔موسیٰ کہلانا۔یوسف کہلا نا۔عیسی کہلانا اور بالآخر محمد و احمد کہلانا۔غرض اتنا بڑا دعوی کیا ایک اہل دل خدا ترس کے کانوں میں پڑ کر کم سے کم اُسے توقف کر جانے اور ماننا نہ سہی مگر غور کرنے پر بھی آمادہ نہیں کرتا ؟ پھر دس سال سے پوری استقامت کیساتھ جس میں زمانہ کے اقسام اقسام کے انقلابات اور طرح طرح کے ترہیب و ترغیب سے ذرا بھی جنبش نہیں آئی۔رسول کریم مے کی طرح آفتاب و ماہتاب کا اُس کے کا دائیں بائیں ہاتھ میں رکھ جانا اس پر زور آواز کو ایک لحظہ کے لئے بھی پست نہیں کر سکا۔بیشمار کتابیں عربی میں فارسی میں اردو میں انگریزی میں