واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 30 of 142

واقعات صحیحہ — Page 30

پس اُسی مقابلہ سے بچنے کے واسطے پیر گولڑوی نے یہ منصوبہ بنایا کہ ”مرزا صاحب پہلے اُس جلسہ میں اپنے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کا تقریری ثبوت دیں اور پھر تحریر کی اجازت ہوگی، مگر افسوس پیر گولڑوی کو اتنی عقل نہیں آئی کہ اپنے دعوئی مسیحیت اور مہدویت کے ثبوت کے واسطے ہی تو مرزا صاحب نے یہ بات پیش کی ہے کہ تفسیر قرآن لکھی جاوے۔تفسیر قرآن میں غالب رہنا ہی تو مرزا صاحب نے اپنے دعوی کی صداقت کا نشان مقرر کیا ہے اور اسی کے واسطے جلسہ ہوتا ہے۔تو آپ فرماتے ہیں کہ جلسے سے پہلے دعویٰ کا ثبوت دو۔ہم سنا کرتے تھے کہ پیر گولڑوی منطق پڑھے ہوئے ہیں۔مگر اب منطق کا حال بھی معلوم ہو گیا ہے۔چاہئے کہ محمد الدین کتب فروش جس نے بڑے شوق سے اپنے پیر کا اشتہار چھاپا ہے اور ساتھ ہی مرزا صاحب پر بہت سے بہتان اور بے جا اعتراض کئے ہیں۔پہلے اپنے پیر صاحب کو منطق کی چند کتابیں روانہ کر دیتا۔اور پھر ان کے اشتہار کے چھپوانے کا ارادہ کرتا۔پیر صاحب گولڑوی نے یہ تجویز اس واسطے سوچی ہے کہ مرزا صاحب نے زبانی تقریروں کو پسند نہیں کرنا۔کیونکہ اول تو اس میں فساد کا خطرہ ہوتا ہے اور دوسرے ایسے لوگوں کی زبان کا اعتبار نہیں۔اس واسطے مرزا صاحب ہمیشہ تحریری گفتگو کیا کرتے ہیں۔تقریری نہیں کیا کرتے۔اور تیسرا مرزا صاحب متنازعہ فیہ باتوں پر نہایت بسط سے اپنی کتابوں میں تحریر کر چکے ہیں اور چوتھا مرزا صاحب کی طرف سے مباحثہ کے واسطے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔بلکہ بالمقابل تفسیر کا اشتہار دیا ہے۔ان باتوں کو مد نظر رکھ کر پیر گولڑوی نے یہ چال اختیار کی کہ ہم پہلے مباحثہ کرتے ہیں پیچھے تفسیر لکھی جاوے گی۔اور سوچا کہ نہ مباحثہ ہوگا نہ تفسیر کی باری آوے گی اور ہم اس طرح ذلت سے بچ جائیں گے۔مگر وہ یاد رکھیں کہ اس پر بھی ان کا چھٹکارا نہیں ہو سکتا۔مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے اشتہار مؤرخہ ۱۴ / اگست ۱۹۰۰ ء میں آپ کی اور آپ کے شاگرد مولوی غازی کی تمام باتوں کا مفصل جواب دے کر آپ پر آخری حجت اس طرح سے قائم کر دی ہے کہ یہ طریق پیر گولڑوی کے فرار اور انکار کا ثبوت ہے۔اور اگر یہ اس کا بھاگ جانا نہیں تو وہی تین علماء جو تفسیر قرآن کے واسطے حکم مقرر کئے گئے تھے اُن کے پاس جائیں اور اُن سے اسی طرح کی قسم کے ساتھ جس کا ذکر مرزا صاحب نے کیا ہے یہ شائع کرا دیں کہ پیر صاحب گولڑوی تفسیر لکھنے سے ہراساں و ترساں