واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 17 of 142

واقعات صحیحہ — Page 17

۱۷ نے یہ سن کر کہ آپ کو الہامات ہوتے ہیں آپ پر تمسخر کیا اور کہا کہ اب بابوؤں کو بھی الہام ہونے لگ پڑے اور آپ کو سخت الفاظ میں مخالفانہ خط لکھا تو آپ کو الہام ہوا کہ چہ داند بوزنہ لذات ادرک۔سواگر با بو الہی بخش صاحب اپنے الہام الہی کے استعارات میں بوز نہ اس کو کہتے ہیں جو احکام الہی کی صریح نافرمانی کر کے یہود کی طرح خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے پر وارد نہ کر لے جیسا کہ آیت شریفہ قلنا لهم كونو اقردةً خاسئین ( سے ظاہر ہے۔بابو صاحب کے غور کرنے کے واسطے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے الہامات میں کس قدر اختلاف ہے اور فیه اختلافاً كثيرا ) کے نیچے وہ کہاں تک آتے ہیں اور اب میں پھر اصل قصہ کی طرف آتا ہوں۔دعا میں مقابلہ سے انکار مولوی غازی نے اپنے ان اشتہارات کے لکھنے میں ہمیشہ نہایت بد تہذیبی سے کام لیا اور ان کے جواب ہماری جماعت کے آدمیوں نے متفرق مقامات سے نہایت تہذیب کے ساتھ دیئے اور پیر مہر شاہ صاحب کے شوق و شغل کیمیا سازی اور کشتہ گری کا بھید بھی لوگوں پر ظاہر فرمایا۔اسی اثنا میں حضرت اقدس کی جماعت کی طرف سے ایک اشتہار نکلا کہ اگر کوئی مرزا صاحب کا مخالف ملاں، مولوی ، سجادہ نشین اپنے تئیں حق پر خیال کرتا ہے اور مومن جانتا ہے تو مومن کا نشان یہ ہے کہ اُس کی دعا قبول ہو۔اس واسطے چاہئے کہ وہ سب مولوی وغیرہ ایک جگہ اکٹھے ہو جاویں اور چند ایک لاعلاج مریضوں اور مصیبت زدوں کو لے کر قرعہ اندازی سے تقسیم کیا جاوے۔آدھے حضرت مرزا صاحب کے حصہ میں آویں اور آدھے مخالفین کے حصہ میں۔فریقین اپنے اپنے حصہ کے آدمیوں کے حق میں دعا کریں اور ۴۰ دن کے اندر خدا سے خبر پا کر یہ بات شائع کر دیں کہ ہمارے حصہ کے مریضوں میں سے فلاں تندرست ہو جائیں گے جس کی دعا سے مریض اور مصیبت زدہ تندرست اور خوشحال ہو جائیں وہ حق کی طرف سے سمجھا جائے۔اس اشتہار کے جواب میں جو کہ ۲۷۔جون ۱۹۰۰ء کو شائع ہوا تھا پیر صاحب کے مریدوں کی طرف سے ایک اشتہار بے تاریخ ۲۵۔اگست ۱۹۰۰ ء کو لاہور میں پہنچا جس میں