واقعات صحیحہ — Page 8
زاداللہ شرفا سے زائد چالیس روپے سے خریدی تھی۔ہند کی مجھے خبر نہیں دوسرا معاملہ جو ہے بے فکر رہیں کوئی فقرہ حکمت اور صداقت سے انشاء اللہ تعالی خالی نہ ہوگا۔لفظ تالیف اور طبع کا معنی نہ سمجھنے سے اُنہوں نے کہا جو کچھ کہا وہ ہولنا علیہم۔سیظہر اب اُن سے پوچھنا کہ ایجاد مضامین اور تالیف میں عموم خصوص من وجہ ہوا کرتا ہے بھلا مجھ کو یہ بتاؤ کہ دوسرا کا غذ جو مولوی نورالدین صاحب کو پہنچا ہے ذرا اُس کی نقل بھی منگوا کر ملا حظہ کرو۔والسلام مہر شاہ بقلم خود ایک مرید غلام محمد کلرک دفتر ا کا ؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے نام کی طرف ( جو کہ خود میاں غلام محمد صاحب سے ہم کو ملا ) مخلصی ام غلام محمد سلامت۔بعد سلام و دعا آنکہ۔مولوی نور الدین صاحب کی درخواست کتاب کے بارے میں اور نیز وصف میرے علم کے جو کہ اُن کو بذریعہ احباب پہنچی تھی اس کے بارے میں میں نے لکھا تھا۔جس کا مضمون یہ ہے کہ میں تو اتنا علم نہیں رکھتا ہوں احباب نے اپنے حسن ظن کے مطابق تعریف کی ہوگی۔اور کتاب کے بارے میں مولوی محمد غازی صاحب جب واپس آئے تو لکھیں گے کیونکہ کتابوں کی تجسس اور دیکھنا ان کے متعلق تھا میں مضامین غیر مترتبہ بسا اوقات اُن کو دیتا رہا اور تالیف یعنی جمع ترتیب و وطبع کرانا یہ سب ان کے متعلق تھی۔جناب مولوی نورالدین صاحب نے تالیف سے جو منسوب مولوی محمد غازی صاحب کی طرف کی گئی تھی اور فی الواقع یوں ہی تھا یہ سمجھ لیا کہ موجد مضامین اور مصنف مولوی صاحب ہیں۔فلاں نے یعنی میں نے اس کی تصنیف اور ایجاد سے انکار کیا محبا کبھی مؤلف اور موجد ایک ہی ہوتا ہے اور کبھی مختلف۔میں نے باعث کم فرصتی کے جمع اور ترتیب بمعہ مطالع کتب ان کے ذمہ ناظرین غور کریں کہ پیر صاحب مولوی صاحب کو تو یہ لکھتے ہیں کہ کتاب مولوی غازی نے تالیف کی ہے ہاں احیانا اس بے بیچ سے بھی اتفاق استفسار بعض مضامین ہوا اور میاں غلام محمد کو لکھتے ہیں کہ میں مضامین غیر مرتبہ بسا اوقات اُن کو دیتا رہا۔پیر صاحب کی اس دو رخی چال کے اختیار کرنے پر نہایت مناسب ریمارکس کر کے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک زبر دست مضمون اخبار الحکم میں شائع کیا اور