واقعات صحیحہ — Page 122
۱۲۲ نے مہر علی شاہ کی مدح سرائی اپنی کتاب میں کی تھی اور ظلم کی راہ سے اس کو غالب اور فاتح قرار دیا تھا کہ اسے تفسیر لکھنے کی طرف توجہ دلاتے اور خود بھی اپنی الہامی تفسیر سے اس کی مدد کرتے۔سوچو اور غور کرو یہ ہوا کیا ہے کہ اس مقابلہ میں تمام قلم ٹوٹ گئے اور بے شمار عالموں سے ایک ہی کو اور اسی کو جس کا خدا کی طرف سے منصور و مؤید ہونے کا دعوی تھا اس کے لکھنے اور پورا کرنے اور میعاد کے اندر شائع کرنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ جل شانہ ایسا ظالم نہیں اور اسکی سنت کبھی ایسی ثابت نہیں ہوئی کہ اس طرح ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنی صداقت کا کوئی ثبوت اور معیار پیش کرے اور ہو وہ کا ذب اور مفتری علی اللہ اور اس کے مقابل ہوں صادقین کاملین ملہمین علمائے کرام اور سجادہ نشینان عظام پھر وہ کامیاب ہو جائے اور اس کے منہ کی بات حرفاً حرفاً پوری ہو جائے اور وہ بزرگ اور پاک جماعت مبہوت اور مخذول رہ جائے۔اے دانشمند وسوچو۔اے خدا کو ماننے والوفکر کرو۔یہ بات کیا ہے۔کیا غیور خدا نے ناحق اس شخص کی مدد کی جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور امت محمدیہ کا چیدہ اور کثیر گروہ اس پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے اور دن بدن اطراف الارض سمٹ کر اس کے حضور میں ناصیہ فرسائی کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔کیا یہ اس لئے کیا کہ قہر کی بجلی سے امت محمدیہ کو نابود کر ڈالے۔ظلم مت کرو۔خدائے پاک کی طرف ایسے گستاخانہ خیالات کو منسوب نہ کرو۔اس نے جو کیا درست کیا۔اسی طرح وہ اپنے بندوں کی صداقت ظاہر کیا کرتا ہے۔یوں اس نے مؤید کو مؤیّد اور مخذول گروہ کو مخذول کر دکھایا اس لئے کہ جہان پر کھلی حجت ثابت ہو جائے۔جس طرح چالیس روز ہے میں سے باقی رہ گئے تھے اور بیماریوں کی جھپٹ دن بدن زیادہ ہوتی جاتی تھی اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو میعاد یونہی مل جاتی اور حضرت موعود کو قلم پکڑنے کی مہلت ہی نہ ملتی۔فاطر السموات والارض عالم السر والعلن گواہ اور آگاہ ہے کہ ہم کو بشریت کے ضعف کی وجہ سے بار بار ایسا دھڑ کا لگتا تھا کہ کیوں کر اتنا عظیم الشان کام باوجود ان حالتوں کے جو ہم دیکھتے تھے پورا ہوگا۔اپنے حق میں ظلم سے جو چاہو کہو مگر یہ تو بتاؤ کہ کیا ہمارے لئے بھی یہ نشان نہیں جن کے سامنے یہ سب حالات وقوع میں آئے اور کیا اب بھی ہم حضرت موعود کو اپنے تمام دعووں میں صادق اور مؤید اور منصور