واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 121 of 142

واقعات صحیحہ — Page 121

۱۲۱ وو جس کا عنوان ہے ” پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کیا لکھا تھا جسے حکیم قادر خدا تعالیٰ نے ۲۰ فروری ۱۹۰۱ کو اپنی قدرتوں اور زور آوریوں سے پورا کر کے دکھایا۔اس سے زیادہ آپ لوگوں کے لئے کوئی نشان نہیں ہو سکتا۔سوچو اور غور کرو کہ کس طرح خدائے غیور نے اپنے فرستادہ کی مدد کی اور اس کے منہ کی باتوں کی لاج رکھ لی۔کیا کبھی تم نے پڑھا اور سنا ہے کہ کسی کا ذب کو آسمان و زمین کے خدا نے ایسی نفرتیں دی ہیں۔اگر یہ استدراج ہے تو وہ نصر تیں کہاں اور کیسی ہیں جو عباد الرحمن کو ملا کرتی ہیں؟ سنو اشتہار مذکورہ میں خدا کا نذیر کیا لکھتا ہے " منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کی جھوٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے بات تو تب ہے کہ کوئی انسانی حیا اور انصاف کی پابندی کر کے کوئی امر ثابت بھی کرے اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں جیسا کہ وہ دعوی کر بیٹھے ہیں تو اب چار جزو عربی تفسیر سورہ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت ستر دن میں اپنے گھر میں ہی بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنے کے لئے کیا مشکل بات ہے۔انکی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب ان پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کیلئے بھی ایک چمکتا ہوا ثبوت ہماری طرف سے ہوگا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کیلئے کوشش کی اور پانچ سو روپیہ انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور ان کے حامیوں نے اس طرف رخ نہ کیا ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی کشتی دو پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے تو دوسری مرتبہ کشتی کروائی جاتی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق اس دوبارہ کشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوں کا شبہ دور ہو جائے اور دوسرا شخص جیتتا ہے اور میدان میں اس کے مقابل کھڑا نہیں ہوتا۔اور بیہودہ عذر پیش کرتا ہے۔ناظرین برائے خدا ذرا سوچو کہ کیا یہ عذر بد نیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو پھر اپنے تئیں دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لو اور اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں میں کبھی نہیں کروں گا۔پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔یہ پیر صاحب کا جواب ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرط دعوت قبول کر لی تھی۔اب بتائیے منشی صاحب۔عبد الحق صاحب کیا آپ کا فرض نہ تھا۔اس لئے کہ آپ