واقعات صحیحہ — Page 123
۱۲۳ ماننے پر معذور و مجبور نہیں ہیں۔مجھے رہ رہ کر جوش آتا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ اور آگاہ ہے کہ دل کی تہہ سے یہ فوارہ جوش مارتا ہے کہ یہ بڑا عظیم الشان معجزہ اس سلسلہ عالیہ کی تائید میں خدائے بزرگ و برتر نے دکھایا ہے۔عوارض اور حالات کو مدنظر رکھا جائے تو اس کی کوئی نظیر نہیں۔ہر ایک چیز کی عظمت وقت اور حالات موجودہ کی نسبت اور قیاس سے ہوتی ہے۔ایک تحدی ہوئی اس کی ایک میعاد مقرر ہوئی۔اس میں سے بھی پورا ایک مہینہ گزر گیا اور دعویٰ کرنے والے پر موت تک پہنچا دینے والی بیماریاں حملہ پر حملہ کر رہی ہیں اور تحدی ایسی خطر ناک کہ اگر اس میں خطا ہو جائے تو پچھلا برسوں کا ساختہ پر داختہ سب غارت۔سارے دعوے جھوٹے۔سارا تانا بانا درہم برہم۔اس پر خدا وند کریم کی ایسی نصرت اور تائید کہ چالیس روز میں سے بھی ۲۰ فروری کو یہ کام پورا کر دیا۔اتنی نصرتیں اور تائیدیں یک جا جمع ہو جائیں۔کا تب موجود۔پریس موجود۔سامان اور مواد مطلوبہ موجود اور ان سب لوگوں کی صحت و عافیت اس حد تک برقرار۔یہ نشان ہیں پر ان لوگوں کیلئے جو خدا کو خدا میں دیکھتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس کو چہ سے بے خبر ہنسیں اور راقم کو ان امور میں استخفاف کی نگاہ سے دیکھیں مگر خدا کی نصرتوں کے مواطن کو جاننے والے اور ایام الله - ނ عارف سمجھتے ہیں کہ یہی باتیں ہیں جو مؤمنین کے ایمان وعرفان کو بڑھاتی ہیں۔شام کو یعنی ۲۳ فروری کی شام کو مغرب کی نماز کے بعد حضرت موعود علیہ السلام تحدیث بالنعمت کے طور پر ذکر کرنے لگے کہ اس کتاب کے پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے کس قدر تائید کی ہے۔دن اور راتیں کئی مرتبہ ضعف بشریت کی وجہ سے امراض کے غلبہ کے وقت خیال آ جاتا تھا کہ اب آخری دم ہے۔پھر فرمایا کہ وہ دو زرد چادر میں جو مسیح موعود کا نشان پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے وہ تو ہمارے ساتھ زندگی بھر میں چلی جائیں گی یعنی ایک بیماری اوپر کے حصے میں اور ایک بیماری نیچے کے حصے میں اور یہ اس لئے ہے کہ تا خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے کہ کیونکر سارا کام وہ اپنی ہی قدرت اور قوت سے کرتا ہے اور تا وہ دکھائے کہ اگر وہ چاہے تو ایک تنکے کے مقابل تمام متکبر زور آوروں اور کوہ وفاروں کو عاجز کر دے۔پھر فرمایا رات ایک پھنسی نے جو کئی دن سے نکلی ہوئی ہے اور ساتھ ہی خارش نے تنگ کیا۔بشریت کی وجہ سے دھیان آیا کہ کہیں یہ ذیا بیطیس کا اثر اور نتیجہ نہ ہو۔