واقعات صحیحہ — Page 120
۱۲۰ موسیٰ علیہ السلام کو ڈاکو قاتل مصریوں کا مال و زیور ہضم کرنے والا کہا الہی بخش اینڈ کو نے حضرت مرسل اللہ ، جری اللہ مسیح موعود علیہ السلام کو کہا۔للہ منشی صاحب فرق بتا ئیں ان معترضوں میں اور اس پر غضب سبک سرنکتہ چین میں۔میاں الہی بخش صاحب برادر ہدایت اللہ پشاوری کے نام خط میں افسوس کرتے ہیں کہ حضرت اقدس نے ان کی کتاب کو گندی نالی کہا ہے حالانکہ اس میں آیتیں اور حدیثیں ہیں۔کیا الہی بخش نہیں جانتے کہ لیکھرام کی کتابوں اور ٹھاکر داس کی کتابوں اور صدر علی پادری کے نیاز نامہ میں آیتیں اور حدیثیں ہیں؟ پھر کیا وہ کتابیں گندی نالیاں نہیں؟ الحاصل بات اپنی منشاء سے نکلی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو ریویو میں اس پر مفصل بحث کی جائے گی۔اس وقت جس بات کی دل میں آرزو اور خواہش ہے یہ ہے کہ اب الہی بخش اینڈ کو اور اس کمپنی کے حامی کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ اب بھی نہیں سوچتے کہ خدا نے انہیں سخت شرمندہ کیا۔اعجاز مسیح نے نئے سرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر مہر نہیں لگا دی ؟ اب کیا وہ قوم وہ احمدی قوم وہ مبارک قوم جو اپنے امام ہمام کے روز روز ایسے معجزات اور خدا تعالیٰ کی تائیدات دیکھتی ہے خس و خاشاک پر راضی ہوسکتی اور وسواس خناس ان کے دلوں کے حصن حصین میں راہ پا سکتا ہے وہ ایسے خارق عادت معجزات دیکھ کر اور اعجاز مسیح جیسی کتاب سورہ فاتحہ کی تفسیر کو پڑھکر کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں ایسی لغو اور ردی کتابوں کو جو صحرا کے نادان جنگلیوں نے پیش کی ہیں۔اے منشی الہی بخش اور منشی عبد الحق اللہ تعالیٰ کا خوف کرو اور مقام الرب کے ہول و ہر اس کو یاد کرو تم پر حجت پوری ہوگئی اور سب مخالفوں سے زیادہ حق دار تم ہو کہ اس خدا کے نشان کی قدر کرو۔سنو اور خدا کے لئے سنو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں آؤ ہم میں اور تم میں ایک فیصلہ کی راہ آسانی سے نکل آتی ہے تم کوئی ایک بڑا بھاری اور مایہ ناز ذاتی اعتراض کرو حضرت جری اللہ مسیح موعود پر۔اگر وہ حرفا کسی اولوالعزم نبی کی ذات پر وارد نہ ہوتا تو ہم کا ذب اور کوئی نبی بعینہ اس کا مورد ٹھہر جائے تو پھر تم خدا کے غضب کی شعلہ زن آنکھ سے ڈرو اور اس کمینہ عادت سے تو بہ کرو۔