واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 119 of 142

واقعات صحیحہ — Page 119

119 بڑی عمدگی سے سماسکتی ہے کہیں تم نے قرآن کریم کے لطائف حقائق لکھے۔معرفت الہی کے علوم کے کچھ نکتے بیان کئے ؟ علوم الہیہ ہی میں دستگاہ کا کوئی ثبوت دیا ؟ آجا کے چند گول مول الہام لکھ دیئے۔اور یہ کہہ کر ان کی نیو میں بھی پانی پھیر دیا کہ انکی تفہیم اور معانی پر مجھے وثوق نہیں " بجز ذاتی نکتہ چینیوں کے جو حضرت مرسل اللہ کی نسبت ہیں تم نے اپنا حسن کیا دکھایا۔اُس سے اپنے تئیں کامیاب سمجھ لیا کہ تم نے چند اعتراض کر دیئے ہیں یہ تو بین دلیل ہے تمہاری نامرادی پر اور تم بآسانی دیکھ سکتے تھے کہ ایسا نمونہ چھوڑنے والے پہلے کون ہوئے ہیں اور کیا کامیابی انہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر میرے قلب میں بڑی بصیرت اور شرح صدر سے یہ ڈالا گیا کہ اگر یہ کتاب اپنی اس طرز ادا اور مضامین میں جو حضرت موعود علیہ السلام کی پاک اور مطہر ذات کی نکتہ چینی پر لکھے گئے ہیں قابل وقعت ہے تو اس سے بہت زیادہ قابل وقعت ولیم میور۔سپر نگر سل۔ٹھا کر داس اور فورمین کی کتابیں ہیں جس میں جناب سید المعصومین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر نکتہ چینیاں کی گئی ہیں۔اور بڑی ہی قابل عزت وہ ناپاک کتاب ہے جس میں کسی آریہ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ذات پر حملے کئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے منشی مہتاب دین صاحب سوپر وائزر جو عصائے موسیٰ کے شیدائیوں اور ہوا خواہوں سے ہیں اور حافظ علوم قرآنی اخی مکرم نورالدین ( سلمہ اللہ ایده و بارک علیہ ولہ ) کو ۳۰ /جنوری کے خط میں اس کتاب کی خوبیاں یاد دلاتے ہیں اٹھیں اور بڑا احسان قوم پر کریں جو ما بہ الامتیاز بتادیں الہی بخش اینڈ کو کی کتاب میں اور ان نصرانیوں اور آریوں کی کتابوں میں۔اور اس پر بھی توجہ فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کیلئے نظر کریں کہ کیا یہ ساری ایک ہی سی ذاتی نکتہ چینیاں نہیں ؟ اور اس قسم کے نکتہ چین ہر زمانہ میں یکساں خدا کے قدوسیوں پر حملہ آور نہیں ہوئے اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرت کی شعلہ زن آگ میں بھسم نہیں ہو گئے۔منشی مہتاب دین صاحب جو سید احمد خان مرحوم کی تصانیف کو سمجھنے والے ہیں امید واثق ہے کہ کمال مہربانی سے یہ نکتہ حل کر دیں گے کہ اس کتاب نے قوم اور اسلام کی کیا خدمت کی ہے اور غیر قوموں کے آگے اتنے سو صفحوں میں کیا اور کوئی ایک بھی سبق پیش کیا ہے۔نصرانیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈاکو دکاندار مال حرام خور کا ذب مفتری کہا۔یہودیوں نے حضرت مسیح کو ایسا کہا۔آریوں نے حضرت