واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 104 of 142

واقعات صحیحہ — Page 104

۱۰۴ ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرط دعوت منظور کر لی تھی۔رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کی رو سے اور کیا معارف قرآنی کے رو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسور و پیہ نقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا۔اور اس صورت میں اس کوفت کا بھی تدارک ہو جائے گا جو پیر صاحب سے تعلق رکھنے والے ہر روز بیان کر کے روتے ہیں۔جو ناحق پیر صاحب کو لاہور آنے کی تکلیف دی گئی۔اور یہ تجویز پیر صاحب کے لئے بھی سراسر بہتر ہے کیونکہ پیر صاحب کو شاید معلوم ہو یا نہ ہو کہ عقل مند لوگ ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ پیر صاحب کے علم قرآن میں کچھ فصل ہے یا وہ عربی فصیح بلیغ کی ایک سطر بھی لکھ سکتے ہیں۔بلکہ ہمیں ان کے خاص دوستوں سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بہت خیر ہوئی کہ پیر صاحب کو بالمقابل تفسیر عربی لکھنے کا اتفاق پیش نہیں آیا۔ورنہ اُن کے تمام دوست ان کے طفیل سے شاہت الوجوه سے ضرور حصہ لیتے۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ اُن کے بعض دوست جن کے دلوں میں یہ خیالات ہیں۔جب پیر صاحب کی عربی تفسیر مزین به بلاغت و فصاحت دیکھ لیں گے تو اُن کے پوشیدہ شبہات جو پیر صاحب کی نسبت رکھتے ہیں جاتے رہیں گے۔اور یہ امر موجب رجوع خلائق ہو گا۔جو اُس زمانے کے ایسے پیر صاحبوں کا عین مُدعا ہوا کرتا ہے اور اگر پیر صاحب مغلوب ہوئے تو تسلی رکھیں کہ ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے۔اور نہ اُن کو بیعت کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔صرف ہمیں یہ منظور ہے کہ پیر صاحب کے پوشیدہ جو ہر اور قرآن دانی کے کمالات جس کے بھروسہ پر انہوں نے میرے رڈ میں کتاب تالیف کی لوگوں پر ظاہر ہو جائیں۔اور شاید زلیخا کی طرح اُن کے منہ سے بھی الْمْنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ (یوسف : 52) نکل آئے اور ان کے نادان دوست اخبار نویسوں کو بھی پتہ لگے کہ پیر صاحب کس سرمایہ کے آدمی ہیں۔مگر پیر صاحب دل گیر نہ ہوں ہم اُن کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیر کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چار جو و سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر میعاد مجوزہ تک۔۔۱۵ / دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ / فروری انشاء تک میعاد تفسیر لکھنے کی ہے اور چھپائی کے دن بھی اسی میں ہیں۔