واقعات صحیحہ — Page 103
۱۰۳ جیسا کہ وہ دعوی کر بیٹھے ہیں تو اب چارجز عربی تفسیر سورۃ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت ستر دن میں اپنے گھر میں دل میں ایک تجویز خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو میں اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہوں۔اور یقین ہے کہ پیر مہر علی صاحب کی حقیقت اس سے کھل جائے گی۔کیونکہ تمام دنیا اندھی نہیں ہے انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے ہیں۔اور وہ تدبیر یہ ہے کہ آج میں اُن متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں۔یہ جواب دیتا ہوں کہ اگر در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم معارف قرآن اور زبان عربی کی ادب اور فصاحت اور بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہوں گی کیونکہ لاہور آنے پر ابھی کچھ بہت زمانہ نہیں گزرا اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعوی کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورہ ممدوحہ کے بھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مقابل عربی فصیح بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرماویں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ ء کی پندرہ تاریخ سے سترہ ۷ دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہئے تب اہل علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے۔اور اگر اہل علم میں سے تین کس جو ادیب اور اہل زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنا ان کے لئے کیا مشکل بات ہے۔اُن کی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب تو اُن پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہوا ثبوت ہماری طرف سے ہوگا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کے لئے کوشش کی کہ پانسو ۵۰۰ روپیه انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور اُن کے حامیوں نے اس طرف رُخ نہ کیا ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی کشتی دو پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے تو دوسری مرتبہ کشتی کروائی جاتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق تو اُس دوبارہ کشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوں کا شبہ دور ہو جائے اور دوسرا شخص جیتتا ہے اور میدان میں اُس کے مقابل پر کھڑا نہیں ہوتا اور بے ہودہ عذر پیش کرتا ہے۔ناظرین برائے خدا ذرا چو کہ کیا یہ عذر بد نیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو کہ پھر اپنے تین دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لو۔اور اس بات کی پروا نہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں میں کبھی نہیں کروں گا پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہوسکتی ہے۔یہ پیر صاحب کا جواب