واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 93 of 142

واقعات صحیحہ — Page 93

۹۳ انگلیوں طرف ہو گئی۔اور حضرت علی ایک کس مپرس کی طرح متروک ہو گئے۔اس بد عقیدہ سے کس قدر خرابیاں نکلتی ہیں گویا خدا تعالیٰ کچھ بھی نہیں اور اُس کی مرضی کوئی شے نہیں اور نیچر اور نیچر کے فرزند اپنی ہی قوت اور میلان سے جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو یہ قدرت نہیں کہ متحد دحکم اور مصالح کی بنا پر ہر زمانہ میں اور ہر آن میں اُن حکمتوں اور مصلحتوں کے موافق نئے نئے تغیرات پیدا کرتا اور قانون قدرت کو کٹھ پتلی کی طرح اپنی قاہرا نچا تا رہے۔ایک مرسل برگزیدہ کی خاطر اچھی ہوا کو بری اور ردی کو صالح بنا دے۔ایک مامور کی حجت پوری کرنے کے بعد پیشگوئیوں اور وعیدوں کے موافق اُس کے دشمنوں کے استیصال کے لئے پہاڑوں کو گرا دے خونخوار سمندروں کو ان کی قبریں بنادے۔اُن کے نام و نشان تیز آندھیوں سے مٹادے۔اُنہیں آتشیں تلواروں اور بانوں کی آگ میں بھسم کر دے۔اور اُن برگزیدوں کی جماعتوں کو وعدہ کے موافق اس عالم میں جَنْتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارَ کے وارث بنائے بعد اس کے کہ وہ گمنام ننگے بھو کے اور ریگستان کی آتشیں لوؤں سے دُکھ اٹھاتے ہوں۔علی گڑھ کالج کے بانی نے اس بد عقیدہ سے متاثر ہو کر اور پرانے اور حال کے میٹریلسٹوں دہریوں کی چال پکڑ کر اپنی تفسیر میں صاف لکھ دیا کہ قوموں کی تباہی قدرت اسباب سے گناہوں کی سزا اور اُن کا نتیجہ نہ تھی۔پہاڑ کو زلزلہ آیا اور وہ قوم اس کے نیچے اتفاقاً دب گئی۔فرعون اور اس کا لشکر اتفاقات سے سمندر میں ڈوب گیا اور اُن سب عذابوں کو جو خدا تعالیٰ کے وعدوں اور پیشگوئیوں کے موافق اُس کے ارادوں سے ناپاک اور سرکش قوموں پر واقع ہوئے قانون قدرت کی اپنی ذاتی تحریک سے مانا ہے۔نوح علیہ السلام کا طوفان بھی اتفاقی تھا اور سب ایسے واقعات اتفاقی تھے۔آنحضرت ﷺ کے دشمن اتفاق سے بدر اور احزاب اور دیگر غزوات میں واصل جہنم ہوئے۔ان تباہیوں کے وقت اگر راستباز بھی ہوتے تو وہ بھی اُسی لذت اور لعنت کا مزہ چکھتے۔افسوس خدا تعالیٰ کی ہستی کے لگا نہ ثبوتوں اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کو خدا تعالیٰ کی سُنن سے جاہل انسان نے کس قد ر استخفاف سے دیکھا۔اور یہ سب بلا اُسے اس سبب سے پیش آئی کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے عظیم الشان صفات کے مسئلہ کو یورپ کے میٹریلسٹوں اور معتزلہ کے طرز پر دیکھا اور پھر قرآن کریم کی اُن تعلیمات پر یورپ کے فلاسفروں کے اعتراضوں اور جواب کے عدم