واقعات صحیحہ — Page 92
۹۲ کرنے کے منصوبے باندھے گئے ہیں مقدس تاریخ میں اُس کی کوئی نظیر پائی نہیں جاتی۔یہی مولوی بٹالوی چلا چلا کر گورنمنٹ کو ہدایت کرتا رہا کہ یہ شخص (حضرت مرزا صاحب) گورنمنٹ کے حق میں بڑا خطرناک ہے اور اس کے دعوے پوسٹیسکی سخت اندیشہ ناک ہیں۔اور یہ سلطنت کا دعویٰ کرتا ہے اور مرزا صاحب کی نسبت بد سگالیوں اور چالبازیوں میں سینکڑوں راتوں کو دن کر دیا۔مگر خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے پیٹر کی ایک شاخ بھی نہ توڑ سکا۔اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ خدا تعالیٰ کے منہ کی باتیں پوری ہوں جو براہین احمدیہ میں ان فتنوں سے سالہا سال پہلے لکھی گئی تھیں تبتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَ۔مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِيهَا إِلَّا خَائِفاً۔یعنی پُر غضب اور مشتعل آدمی کے ہاتھ کٹ جائیں اور وہ نا کام ہو جائے۔اُس کے ہاتھوں نے کیسی بری کارروائی کی کہ خدا کے مرسل اور جری پر تکفیر کا فتویٰ لگایا اُسے مناسب یہ تھا کہ ڈرتا ڈرتا اس کام میں ہاتھ ڈالتا۔اصل بات یہ ہے کہ بد قسمت نیچری یا میٹریلسٹ خدا تعالیٰ کو مد بر بالا ارادہ اور ہر آن میں ذرات کا ئنات پر مقتدر متصرف اور اپنی مشینوں اور ارادوں کے موافق ہر آن میں قانون قدرت کی کل چلانے والا نہیں مانتے۔ہندوستان کے جاہل تھیالوجسٹوں کی طرح خدا تعالیٰ کو اتفاق سے ایک مادہ پا کر اور اُسے جوڑ جاڑ کر عالم کو بنانیوالا اور پھر ہاتھ دھر کر معطل بیٹھ رہنے والا اور قانون قدرت کے تغیر سے کچھ بھی سروکار نہ رکھنے والا یا رکھ نہ سکنے والا یقین کرتے ہیں۔یہ خبیث مرض ایک عالم میں سرایت کر گیا ہے اور زمانہ دراز سے اس کے آثار قوموں کے عقائد میں ملتے ہیں۔یہ موذی مرض اُن لوگوں میں پھیلا جنہوں نے اپنا نام شیعہ علی رکھا۔وہ اسی جہل بصفات اللہ کے سبب سے اُس وقت سے بھی چلاتے تھے اور اب تک چلا رہے ہیں کہ خلیفہ بلا فصل علی تھے۔خدا تعالیٰ عرش پر پہلے ارادہ کر چکا تھا لوح محفوظ پر لکھ چکا تھا۔اور فرشتے پڑھ چکے تھے۔اور جبرائیل بارہا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو وصیت کر چکا تھا۔اور سر بمہر صحیفہ بھی آپ کے سپرد کر چکا تھا۔اور آپ بھی منہ پھاڑ پھاڑ کر امت کو وصیت کر چکے تھے۔اور مختلف موقعوں پر کھول کھول کر یہ تبلیغ کر دی تھی کہ حضرت علی بعد آپ کے خلیفہ بلا فصل ہوں گے مگر یہ سارا تارو پودٹوٹ گیا اور اتفاق سے حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ بلا فصل ہو گئے۔اس لئے کہ مہاجرین کی کثرت اور انصار کی عظیم جماعت اُن کی