واقعات صحیحہ — Page 90
کیا ضروری نہ تھا کہ حضرت مرزا صاحب غنی ہو جاتے اور اس زمانہ کی غنیمت اور نے آپ کے پاؤں میں جمع ہوتیں۔راستی چاہتی تھی کہ آپ پہلے بے زر اور نادار ہوتے اور پھر ایک مدت کے بعد خدا تعالیٰ کے تکفل سے غنی ہو جاتے سو ایسا ہی ہوا۔افسوس اس پر ایک مسلمانوں کی ذریت کہلانے والا اعتراض کرتا ہے کہ کیوں حضرت مرزا صاحب پہلے مالی حالت میں کمزور تھے۔لیکن وہ یہ بتائے کہ کیا وہ ایمان لے آتا یا اقلا اعتراض نہ کرتا اگر حضرت مرزا صاحب متمول با ثروت ہوتے۔مگر قریب تھا کہ اُس وقت وہ چلا کر بول اٹھتا کہ مرزا صاحب اپنی دولت اور جاہ و تمول اور دنیوی شوکت کی پشت و پناہ سے زمانہ میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔جیسے وہ اس وقت تنگ ظرفی یا سفن انبیا کی ناواقفیت سے خدام کی امداد سے مالدار ہو جانے کو آپ کے مور د طعن ٹھہرا رہا ہے اُس وقت آپ کا ذاتی تمول اس کے اعتراض کا ہدف بنتا۔افسوس یہ ساری باتیں اس سے پیدا ہوئی ہیں کہ قوم نے کتاب مجید کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور منہاج نبوت سے سخت روگردانی کی ہے۔کچھ تو یہود کی طرح آپس کے حسد اور بغض اور لفظی الجھیڑوں میں رات دن گرفتار ہیں۔چنانچہ کل ہی حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں مولوی تلطف حسین دہلوی شاگرد خاص اور منظور نظر شیخ الکل فی الکل علی الکل نذیر حسین دہلوی کی طرف سے ایک خط آیا کہ دہلی میں فتنہ کی ایک آگ لگ رہی ہے اور نزاع دور تک پہنچ گئی ہے اور نزاع یہ ہے کہ آیا مردہ عورت کے سر پر جو چھٹیوں کا قبہ بنایا جاتا ہے اور اس صورت میں قبرستان کی طرف لے جائی جاتی ہے یہ جائز ہے یا نا جائز۔اور ہمارے مولوی صاحب سے اس مسئلہ میں استمداد کی ہے اس طرح بعض شہروں میں آمین بالجبر اور ضاد اور قرآة خلف الامام کے جھگڑوں میں مبتلا اور عدالتوں تک مقدمات لے جا رہے ہیں۔اور کچھ صدوقیوں کی طرح ایک غلط کا رمضل مقلد یورپ مصنوعی ریفارمر کی پیروی کے سبب سے خدا تعالیٰ کی شرائع۔وحی۔الہام۔مکاشفہ۔رویاء۔دعا۔اور ان تمام امور حقہ سے منکر ہو گئے ہیں جو اسلام کا لگا نہ خاصہ اور مایہ ناز ہیں ایسی حالت میں کس طرح توقع نہ ہوتی کہ اُس طریق کا انکار نہ کیا جاوے گا جو اس آخری زمانہ میں اُسی -۔منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقره:157) قولہ۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے فریب میں آکر جو غضب ڈھایا چار متواتر آرٹیکل