واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 117 of 142

واقعات صحیحہ — Page 117

112 بے التفاتی سے دیکھا اور مدعی کو حقیر دیکھ کر معارضہ کرنے سے پہلو تہی کی۔آجکل کے مسلمانی کے مدعیوں کے عذر میں اور نصاریٰ کی اس وکالت کفار میں کیا فرق ہے۔خدا کے لئے کوئی تو بتائے کیا یہ شخص حقیر ہے جس نے ایک جہان میں غلغلہ ڈال رکھا ہے اور دوست اور دشمن میں ایک حرکت پیدا کر رکھی ہے اور جس کی تردید و انکار میں تمھارے پیشواؤں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں اور جس کی راہ سے لوگوں کو روکنے کے لئے تم ہر وقت جانیں کھپاتے اور کڑھتے ہو اور یہ حقیر آدمی ہے جس کے لئے تم نے تکفیر کا فتوی تیار کیا اور تمہاری جانیں اس کے سلسلہ کی ترقی سے تب و تاب میں ہیں؟ کبھی ممکن ہوا ہے کہ کسی نے مجنون کی حرکات اور حقیر آدمی کی بات کی طرف توجہ کی ہو۔تم بے شک آپ اپنے اوپر گواہ ہو اور تمہاری زبانیں اور قلمیں مخالفت کرتی ہیں اس سے جو تمہارے دل میں ہے اور جو تمہارے اعمال سے ظاہر ہو رہا ہے۔تمھیں اُسی طرح اس تحدی کے مقابلہ اور معارضہ سے خدا تعالیٰ نے عاجز کر دیا جس طرح کفار عرب کو فَاتُوا بِسُورَةٍ کے مقابلہ میں بے دست و پا کیا تھا۔تمہارے سجادہ نشینوں پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو گئی اور ۲۲ / فروری جمعہ کے دن آسمان سے آواز آ گئی کہ تم سب کے سب مخذول و مقہور ہوا اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی خدا کے منصور اور موید ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكُ۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے دوست میاں جعفرز ٹلی اور انکے بعض مثیل امرتسری لاہوری اور گجراتی مہر شاہ کی تائید کرنے اور اسے چشمارو بنانے میں ایک عذر رکھتے تھے۔عصاء موسیٰ کے مصنف اور اس کے رفیق نے بھی بڑی شد ومد سے مہر شاہ کی تائید کی اور ان سب خیالات اور ہفوات کو اپنی کتاب میں بھر لیا جو سخت فضول گو محرروں کی خسیس اور کثیف طبع کا نتیجہ تھے۔اگر یہ منشا تھا کہ کتاب کا حجم اور ضخامت بڑھ جائے تو خیر اس لئے کہ وہ فضول اور محض نکمی کتاب ایسے ہی کوڑے کرکٹ کا انبار ہے اور اگر کسی کمپینہ انتقام کشی کی فطرت نے لا بحت علی بل ببغض معاویہ میں الہی بخش اکو نٹنٹ کو مہر علی شاہ کی تائید پر مجبور کیا تھا تو اب ان کے لئے سب سے زیادہ مارے شرم کے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔بدقسمتوں کو بغض کے ابخرات نے کچھ دیکھنے سوچنے نہ دیا۔ہر ایک کس مپرس پیچ میر ز کو جو حضرت موعود