واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 116 of 142

واقعات صحیحہ — Page 116

117 جو راستبازوں کی راہ میں آیا ہی کرتی ہیں لِيُمَ اللهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ که خدا تعالیٰ ناعاقبت اندیش سخن نافہموں بدگمانوں شتاب کاروں میں اور بات کی تہہ میں پہنچ جانے والوں تقویٰ شعاروں میں فرق کر دے۔اگر ہم نے امام کو کمزور اور نا تو ان اور مقابلہ میں ڈرپوک اور مہر شاہ کو پورا پہلوان سمجھ کر دانستہ یہ کارروائی کی اور ایک سیاہ پر دہ حق اور حقیقت پر ڈالد یا تو ہم سے زیادہ آسمان کے نیچے زمین کے اوپر کوئی ملعون نہیں ہم نے پہلے خلقت کو تو اپنے اوپر ناراض کیا ہی تھا۔اب خدائے غیور کے غضب اور مقت کی آگ کو بھی بھڑکا دیا۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم راستی پر ہیں اور ہر وقت اس کے غضب سے ایسا ہی ڈرتے ہیں جیسے اس کے ملائکہ مقربین اور عباد صالحین ڈرتے ہیں۔اور ہم صدق دل سے لعنت بھیجتے ہیں۔اس دل پر جو ایک کاذب کو صادق سمجھے اور اس زبان پر بھی جو ایک صادق کو کا ذب کہے۔غرض غیور خدا تعالیٰ نے کچھ دیر صبر کیا تا کہ بندوں کی دانش اور ایمان کو آزمائے۔اور جب دیکھ لیا کہ سیاہ دل بیداد گر باز نہیں آتے اور ہنوز مہر شاہ کو آسمان پر چڑ ہا رہے ہیں تب اس کی غیرت نے جوش مارا اور اپنے بندہ کے دل میں سورت فاتحہ کی تفسیر کی تحریر القا کی اور یہ بڑی صاف اور فیصلہ کی راہ اور حق و صدق اور کذب کا معیار تھی اور یہ کام پہلے کام سے آسان تر تھا۔اس لئے کہ گھر میں بیٹھ کر لکھنا اور کتابوں سے مدد لے سکنا اور دیگر شہدا کو اپنی تائید میں جمع کرنا اس میں ممکن اور میسر تھا لیکن اس میں وہی سرخرو ہوا جس کے لیے سرخروئی مقدر تھی اور اعجاز امسیح نے صاف کر دیا کہ مہر علی شاہ اس میدان کے مرد نہ تھے اور اس کی با نگ طبل تہی کی بانگ سے زیادہ نہ تھی۔وہ اس وقت جلسۂ عامہ میں بھی شرمسار ہی ہوتے جیسے اب اتنا وسیع اور حسب مراد موقع ملنے پر خائب خاسر ہوئے ہیں۔وہاں اس وقت اکیلے شرمندہ ہوتے اب اپنے ناعاقبت اندیش حامیوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے ڈوبے ہیں۔غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ ہوا کیا اتنی تھوڑی یا کافی میعاد میں اعجاز امسیح تو نمودار ہو گیا اور مہر علی شاہ اور اس کی امثال ساکت اور مبہوت رہ گئے۔خود انہوں نے توجہ نہیں کی۔دانستہ انھوں نے ایک شخص کو حقیر سمجھ کر مقابلہ کی پرواہ نہیں کی غلط اور بیہودہ بات ہے۔کیا نصاری اور کفار اب تک یہی نہیں کہتے کہ عرب کے فصحا بلغاء نے فَاتُوا بِسُورَةٍ کی صدا کو