واقعات صحیحہ — Page 118
۱۱۸ کے خلاف کمر بستہ ہوا مضتمات سے سمجھا۔نا اندیشیدہ اس کے ساتھ ہو گئے۔اگر خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید میاں الہی بخش اینڈ کو کے ساتھ ہوتی۔اگر اس کی ہمکلامی کا شرف انہیں ہوتا یا اقلا نور فراست سے کوئی قبس ہی ملا ہوتا تو ایسے لاشے بد نام کنندہ مردان کا ساتھ نہ دیتے جس کے لئے مقدر تھا کہ اتنی جلدی اس کے حقیقت کے چہرہ سے نقاب کھل جائے اور اسکی ساری ملمع کاریاں اور جعل سازیاں طشت از بام ہو جائیں۔عصاء موسیٰ کے بہت سے ورق مہر شاہ کے بطلان اور ظلم کی تائید میں سیاہ ہوئے۔اس کا مصنف اور اس کا رفیق از بسکہ قرآن کریم کے علم اور سنت انبیاء اور ہر قسم کے علوم سے بے بہرہ محض ہیں اس روی کتاب پر ناز کرتے ہیں اور الہی اور سادگی سے سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے کوئی کام ہوا ہے۔اس نا دیدہ زمانہ بدوی کی طرح جس نے صحرا کے اک جوہر سے ایک مشکیزہ بھر لیا اور اسے نادر تحفہ سمجھ کر خلیفہ بغداد کے دربار میں لے گیا۔ادھر ادھر سے لغویات اور زٹل اکٹھے کر کے ایک تو وہ لگا دیا ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ اس تو وہ سرگین کی طرح جو کھیتوں کے کنارہ اکٹھا کیا جاتا ہے عنقریب سچائی کے کھیت کی نشو ونما میں کھاد کا کام دے گا۔اس مجموعہ مر محترفات کو بڑے فخر اور ناز سے ہمارے بعض دوستوں کے پاس بھیجا اور اس وسوسہ اندازی کی راہ سے ان کے ایمانوں پر دندان طمع تیز کئے۔کاش یہ لوگ خدا تعالیٰ کا کچھ بھی خوف رکھتے اور اس کے مرسلین کا پاس کرتے کہ کچھ تو نور فراست سے حصہ انھیں مل جاتا اور اپنی جگہ آپ سمجھ سکتے کہ کیا چیز کسی قوم کے آگے پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں عنقریب اس کتاب پر ریویو شائع کرونگا اور اسی کی توفیق اور اذن سے دکھاؤ نگا کہ اس کتاب میں بیداد گر نصرانیوں کو پیشوا بنا کر نکتہ چینیوں اور اعتراضوں اور ذاتی حملوں پر قناعت کی گئی ہے اور مشہور حاسدوں اور دشمنوں کی طرح ڈسٹرکشن (ڈھانا ) کے اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہے اور اپنی طرف سے کوئی دلر بابات پیش نہیں کی اور ایک جگہ پر بھی اصول کونسٹرکشن (Construction) کا دھیان نہیں رکھا۔یہ بڑی آسان بات ہے یوں کہہ دینا کہ فلاں شخص میں یہ عیب ہے اور فلاں نقص ہے اور کوئی خوبی نہیں۔تمام خدا سے دور اور محجوب دنیا کے بیٹوں کا یہی شیوہ رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس میدان کو صاف کر کے تم نے اپنی کس خوبصورتی اور محاسن کا جلوہ دکھایا ؟ اتنی بڑی کتاب میں جس کی وسعت میں الف لیلہ