شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 6
کی کہ جہاں بھی نازل ہو اسکی طرف دوڑو۔اور سلام بھی بھیجا تھا۔لہذا میں زندہ ہوں گا یا مردہ لیکن جو میری بات مانتا ہے اُس کو میں وصیت کرتا ہوں کہ ضرور اس شخص کی طرف جائے۔چند بار اپنے طلباء کو شوق دلایا کہ وہ مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھیں کہ کہاں ہیں اور کیا حال ہے۔جن میں مولوی سید عبد الستار صاحب جو آجکل قادیان شریف میں مہاجر کی حیثیت سے رہتے ہیں۔کئی بار آتے۔اور طلباء جو قادیان شریف آکر واپس گئے تو اُنھوں نے کچھ شکوک بیان کئے تو شہید مرحوم نے ان کے شکوک کو رفع کیا اور بتلایا کہ یہ شخص سچا ہے اور تم غلطی پر ہو۔اسکے بعد مولوی عبد الرحمن شہید مرحوم کو جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے شاگرد تھے اور ان کو امیر کی طرف سے دو سو چالیس روپے ملتے تھے اور منگل قوم کے تھے چند اپنے شاگردوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف بھیجا اور اپنی بیعت کا خط بھی دیا اور میں نے بھی اپنی بیعت کا خط دے دیا اور آپ نے انکو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کچھ خلع میں تحفہ کے طور پر دیں کہ یہ آپکی خدمت میں پہنچا دو۔پس مولوی صاحب موصوف مرحوم بیعت کے خطوط اور ضلع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنیکے بعد کچھ روز ٹھہرے۔اس کے بعد کچھ تصانیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شہید مرحوم کیلئے لیجا کر اپنے مقام پر جو منگل میں ہے چلے گئے۔اس اثناء میں امیر عبدالرحمن خان کے پاس کسی نے رپورٹ کی کہ مولوی عبدالرحمن جو منگل قوم کے ہیں اور جو آپ سے دوسو چالیس روپیہ پاتے ہیں کسی غیر ملک میں چلے گئے ہیں۔امیر عبدالرحمن خان کی طرف سے گورنر خوست کے نام حکم پہنچا کہ مولوی عبد الرحمن کو گرفتار کیا جاوے۔گورنر نے شہید مرحوم کو اطلاع دی کہ ایسا حکم امیر کی طرف سے آیا ہے۔جب مولوی عبد الرحمن کو معلوم ہوا تو وہ چھپ گئے اس کے بعد دوبارہ حکم ہوا کہ اسکامال واسباب ضبط کیا جاوے اور اس کے تمام اہل و عیال کو یہاں بھیج دیا جاوے جب مال و اسباب ضبط ہو گیا اور اہل وعیال کا بل بھیجا گیا تو عبدالرحمن شہید خود امیر کے پاس چلا گیا۔امیر نے