شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 7 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 7

پوچھا کہ تم بغیر علاقہ میں کیوں گئے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ سرکار کی خدمت کے لئے قادیان گیا تھا اور جس شخص نے دعوئی مسیحیت کا کیا ہے اس کی کتابیں آپ کے لئے اپنے ساتھ لایا ہوں۔امیر نے ان سے کتابیں لے کر انکو قید میں بھیج دیا۔اس کے بعد کچھ معلوم نہیں ہوا کہ وہ کہاں گئے اور کیا حال ان کا ہوا یا اندر ہی غائب ہو گئے۔اللہ ہی بہتر جانے والا ہے۔اور افواہ اس کی یہ ہے کہ ان کے منہپر تکیہ رکھ کر ان کا سانس بند کر کے مار دیا گیا۔امیر کو خبر پہنچنے کی وجہ یہ تھی کہ جب شہید مرحوم کو حضرت اقدس مسیح موعود کی کتاب ملی تو شہید مرحوم نے تمام افسروں اور حاکموں اور چھوٹوں بڑوں کو خبر کر دی کہ اس طرح قادیان میں مصلح آیا ہے چنانچہ ان پر بڑے بڑے کفر کے فتوے بھی لگ گئے۔شہید مرحوم کا قادیان آنا شهید مرحوم چند احباب کے ساتھ قادیان آئے۔ان میں سے ایک کا نام مولوی عبد الستار صاحب ہے دوسرے کا نام مولوی عبد الجلیل صاحب اور تیسرے کو وزیر یوں کا مولوی کہا جاتا تھا۔میں ان دنوں کچھ روز کے لیئے اپنے گھر چلا گیا تھا وہاں معلوم ہوا کہ شهید مرحوم حج کو چلے گئے ہیں۔میرا گھر سید گاہ سے شمال کی طرف تمیں کوس کے فاصلہ کرم کی سرحد پر ہے۔میرے والد صاحب کا نام اللہ نور ہے یہ سنتے ہی میں وہاں سے چل پڑا چونکہ مجھے علم تھا کہ شہید مرحوم پہلے قادیان ضرور ٹھہریں گے۔اس لئے یہ سنتے ہی میں بھی جلد روانہ ہو گیا اور ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ شہید مرحوم کے قادیان پہنچنے کے بعد آ پہنچا جب میں شہید مرحوم کے کے پاس پہنچا تو وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے پکڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس لے گئے اور فرمایا کہ چلو تمہاری بھی بیعت کرا آئیں۔جب مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا کہ اچھا تھوڑے دن ٹھہر جاؤ تو شہید مرحوم نے عرض کیا کہ اس آدمی کے ٹھہرنے کی ضرورت نہیں آپ اس کی بیعت لے لیں سو اسوقت میری بھی