شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 5 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 5

بلا یا گیا تھا۔جب دستار کے دو تین پیچ باندھنے رہ گئے تو قاضی القضاۃ نے عرض کیا کہ کچھ بیچ میرے لیئے بھی باقی رکھے جائیں تا کہ میں بھی کچھ برکت حاصل کرلوں سوایسا ہی ہوا کہ کچھ پیچ دستار کے قاضی صاحب نے باندھے۔پھر کچھ مدت کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال کو خوست بھیجا اور مجھے بھی اُنکے ساتھ بھیجد یا۔دو تین ماہ کے بعد آپ نے امیر سے حج کے لیئے جانے کی اجازت مانگی امیر نے خوشی سے آپ کو اجازت دی اور کئی اونٹ اور گھوڑے آپ کے ساتھ کیئے اور بہت نقد بھی دیا۔آپ خوست آکر حج کی نیت سے بنوں کے راستہ سے ہندوستان کی طرف آئے۔اٹک کے پر بے لگنی مقام پر ایک آدمی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔وہ آدمی صاحب علم تھا اُس کے بشرہ سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ جیسے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا ہے اور ایک قسم کی خوشی اُس نے ظاہر کی۔اس خبر اور اس خوشی کو محسوس کر کے شہید مرحوم نے اپنی سواری کا گھوڑا اسکو بخش دیا۔شہید مرحوم جس وقت انگریزوں کے ساتھ سرحد کی تقسیم میں مصروف تھے ایک شخص آیا اور آپ کو ایک کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دبی آپ وہ کتاب لیکر بہت خوش ہوئے اور کچھ انعام جیب سے نکال کر دیا۔جب آپ نے وہ کتاب پڑھی تو بہت پسند کی اور اپنے مہمان خانہ میں آپ نے خاص آدمیوں کو سنا کر فرمایا کہ یہ وہی شخص ہے جس کے انتظار میں دنیا لگ رہی تھی۔اور اب وہ آگیا ہے۔اور فرمایا کہ میں نے ہر طرف دیکھا کہ زمانہ کو صلح کا ہے لیکن مجھے کوئی مصلح نظر نہ آیا تو میں نے اپنی حالت کو دیکھا کہ تمام قرآن شریف اپنے حقائق و معارف مجھ پر ظاہر کرتا ہے اور کبھی کبھی مجسم بن کر مجھے اپنے معنی بتاتا ہے تب میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید خدا تعالیٰ مجھے ہی مصلح کر کے کھڑا کرے گا لیکن اس کتاب کے دیکھنے سے میں نے معلوم کیا کہ خدا نے مصلح بھیج دیا ہے اور جس کی تقدیر میں تھا۔وہ ہو چکا ہے۔یہ وہی شخص ہے کہ جس کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت