شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 48
ہوا کہ اگر یہ تحصیل دار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان گیا یہ معزز اور عالم ہے تو شاید ا سکے۔مانے سے اور بہت لوگ مان جاویں۔اس گمان سے آپ نے خوشی میں آکر ایک قیمتی گھوڑا اسکو دیا۔اور پھر آپ لاہور پہنچے اور شاہی مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی دستار مبارک تیر کا دیکھی اور وہاں سے قادیان دار لامن والامان پہنچ گئے اور حضرت مسیح موعود ہی اللہ علیہ 1 لصلوۃ والسلام کی زیارت و صحبت سے مشرف ہو کر صحابہ میں داخل ہوئے۔یہاں آکر آپ بہت عجائبات ہمیں سنایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں جو باتیں لوگوں کو سناتا ہوں اس سے بہت کم درجہ کی باتوں پر لوگ مارے جاتے ہیں لیکن خدا کی قدرت میں اگر کوئی بات سناتا ہوں تو کوئی اعتراض مجھ پر نہیں کر سکتا ہے۔پھر فرمایا کہ یادرکھو کہ جب خدا تعالیٰ کو میرا مار نا منظور ہوگا تو یہ حکمت مجھ سے چھینی جائے گی۔ایک دفعہ فرمایا کہ میں اپنے گاؤں میں بیمار تھا تو میرے اور شیطان کے درمیان بڑا مقابلہ ہوا۔ایسی حالت مجھ پر طاری ہوئی کہ اگر میں آنکھ جھپکتا تو مجھ پر الزام آتا تھا۔آخر میں اتنی دیر تک ٹکٹکی لگائے دیکھتا رہا کہ میرے گھر والوں نے گمان کر لیا کہ اب اس کا سیانس قریب ہے کہ نکل جاؤ ہے۔اس حال میں دیکھتا کیا ہوں کہ گویا آسمان مجھ پرٹوٹ کر گر نے والا ہے۔اور زمین بھی پھٹنے والی ہے۔پھر دیکھا کہ آسمان اور زمین مجھ پر گر گئے ہیں اور ایک آواز سخت مہیب پیدا ہوئی۔پھر ایک نور کا ستون نکلا ہے ایک سرا اس کا آسمان میں ہے اور دوسراز مین میں دھنسا ہوا ہے۔پھر اُس نے تمام آسمان اور زمین کو سب طرف سے پکڑ لیا ہے اور مجھے بال بھر بھی تکلیف نہ پہنچی۔پھر یہ الہام ہوا لقد جعلت اور غیب سے یہ آواز آئی کہ ایک نے دوسرے سے کہا کہ عبادت تو کم تھی لیکن معرفت کامل تھی اسلئے پہنچایا گیا۔اور دیکھتا ہوں کہ اس حالت سے میرا تمام وجودمیدہ ہو گیا ہے اور سرمہ سے بھی بڑھ کر ہے اور اللہ تعالیٰ مجھ میں سما گیا ہے۔میرا تمام جسم خدا ہی خدا معلوم ہوتا ہے۔اگر بولتا ہوں تو خدا کی آواز نکلتی ہے۔جو بھی کرتا ہوں خدا کا کام ہوتا ہے۔اور میر او جود بالکل کم ہو گیا ہے۔خدا ہوتا