شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 49
۴۹ چونکہ میں بیمار تھا میرے منہ سے ایسی باتیں نکلیں کہ گھر والوں نے گمان کیا کہ بیماری سے دماغ خراب ہو گیا ہے۔میں نے اپنی ایک خادمہ کو کسی کام کے لئے کہا لیکن اُسنے انکار ظاہر کیا۔میں نے کہا کہ عبداللطیف جو انسانوں میں سے ایک انسان تھا اُسکی بات سنکر کام نہیں کیا لیکن اب خدا خود حکم کرتا ہے تم کوئی پروا نہیں کرتے۔اور فرمایا کہ یہ حالت مجھ پر بہت دنوں تک رہی اور میں نے اور بہت سے واقعات لکھے تھے مگر وہ کاغذ گم ہو گیا ہے۔آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے تو پہلے ہی خدا تعالیٰ کو پہچانا تھا اور یہاں تک کہ خدا کے دروازہ کی کنڈی (زنجیر ) بھی کھٹکھٹائی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں ترکیب کھٹکھٹانے کی بتلادی ہے آپ سے ہمیں یہ فائدہ ہو گیا ہے کہ کھٹکھٹانے کی طرز معلوم ہوگئی کہ اسطرح کھٹکھٹاؤ گے تو کھولا جائے گا۔پھر ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ کبھی کبھی رسول کریم ﷺ کا بروز مجھ پر آیا کرتا تھا لیکن جدا ہو جایا کرتا تھا۔مگر یہ مقدر تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کو جب ملوں گا تو پھر بالکل جدا نہیں ہوں گے سو اب بالکل جدا نہیں ہوتے۔اور فرمایا کہ بہت دفعہ مجھے خیال آیا کہ میں اپنے بازو پر لکھوں کہ غلام ہوں کیوں میرا جسم بالکل مسیح موعود علیہ السلام کا بن گیا ہے۔فرمایا بہت دفعہ میں جنت میں جاتا ہوں۔میرا دل چاہتا ہے کہ آپ لوگوں کیلئے میوے لاؤں چونکہ میں ابھی بالغ نہیں ہوا اس لئے مجھے میوے لانے کی اجازت نہیں ہوتی۔میں ہزار ہا دفعہ آسمان پر گیا ہوں لیکن جس طرح لوگ آسمان کی نسبت خیال رکھتے ہیں ایسا نہیں ہے۔آسمان اور آسمان ہیں۔فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے ایسا پر نور حسن میں دیکھا ہے کہ ایسا کبھی بھی کسی نے نہیں دیکھا۔فرمایا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہنسنا اور خدا تعالیٰ کے بننے کی آواز سنی ہے لیکن ان دونوں میں بالکل کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا۔فرمایا کہ میں نے آسمان کے اوپر ایک چشمہ دیکھا اور وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام