شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 4
مالک تھے بہت زمین بنوں میں انگریزوں کی حکومت میں بھی تھی۔آپ نے تعلیم ہندوستان میں حاصل کی تھی تمام علوم مروجہ کے عالم تھے ہر وقت قرآن شریف اور احادیث کا درس آپ کے یہاں جاری تھا۔کئی ہزار حدیثیں آپ کو از بر یاد تھیں۔چنانچہ امیر عبدالرحمن والنٹی کا بل بھی قائل تھا کہ ہمارے ملک میں ایک عالم باعمل خص ہیں جن کو اتنی حدیثیں یاد ہیں جو بھی کابل کا گورنرخوست کے لئے مقرر ہوتا آپ کا تابعدار اور آپ کے پہلو میں بچہ کی طرح ہوتا۔آپ بندوق چلانے کے بہت مشاق اور خوب ماہر تھے۔آپ کو گیارہ سور روپیہ سرکار کی طرف سے سالانہ ملتے تھے۔امیر نے آپ کو گورنر کے ساتھ سرحد پاڑہ چنار اور خوست کی تقسیم میں انگریزوں کے ساتھ مقرر کیا تھا اکثر اوقات کیلیے انگریزوں سے تقسیم میں شامل ہوتے تھے۔امیر عبدالرحمن خان نے اپنی اخیر عمر میں آپ کو کابل شہر میں اہل وعیال کے ساتھ بلا لیا تھا وہاں چند سال رہائش کی۔قرآن شریف اور حدیث شریف کا درس حسب معمول جاری رہا۔میں بھی آپ کے ساتھ کابل میں تھا۔ایک دفعہ طالب علموں نے عرض کی کہ آپ جب کچھ فرماتے ہیں تو احمد نور کی طرف کیوں مخاطب ہوتے ہیں اور ہماری طرف کبھی بھی مخاطب نہیں ہوتے آپ فرماتے رفیق ہمارا ہے اور یہ درس محمد حسین خان ( جو بڑا گورنر امیر عبدالرحمن خاں کا تھا) کی مسجد میں ہوا کرتا تھا۔اور آپ نے یہ بھی طلباء سے فرمایا کہ احمد نور کی یہ حالت ہے کہ جب بخاری شریف شروع کی جاتی ہے تو یہ ایک وادی کی شکل بن جاتا ہے اور حدیث پانی کی طرح اسکے اندر چلی جاتی ہے اسلیئے میں اسکو مخاطب کرتا ہوں۔امیر عبدالرحمن خان صاحب جب فوت ہو گئے تو ان کے بیٹے حبیب اللہ خان تحت کے وارث ہوئے۔جب تمام لوگ امیر کی بیعت کے لئے آئے تو حضرت صاحب زادہ موصوف کو بھی بلا بھیجا کہ میری بیعت کرو۔آپ نے فرمایا کہ میں اس شرط پر بیعت کروں گا کہ آپ شریعت کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔آپ کو شاہی دستار باندھنے کے لیے تبرکاً