شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 3 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 3

بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم جو حالات میرے چشم دید ہیں اور جو آپ کی مجلس میں بیٹھ کر میں نے معلوم کئے اُن کو میں قلم بند کرتا ہوں۔وبالله التوفيق۔حضرت مولانا صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملک خوست شمل دریا کے کنارہ پر ایک گاؤں کے جس کا نام سید گاہ ہے رہنے والے تھے۔آپ قوم کے سید تھے۔آپ کے تمام آباؤ اجداد اپنے ملک میں رئیس اعظم تھے اور آپ کی عمر قریباً ساٹھ اور ستر کے درمیان تھی۔آپ بڑے مہمان نواز تھے۔آپ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت محبت اور دلچسپی رکھتے تھے چنانچہ ہم آپ کے مہمان خانہ میں تمہیں چالیس آدمی رہتے تھے ہر وقت دین کی باتوں میں مشغول رہتے تھے کھانے وغیرہ کا انتظام بھی آپ کی طرف سے ہوتا تھا۔آپ کی ایک مردانہ بیٹھک تھی جس میں قریباً سو دو سو آدمی آ سکتے تھے اور یہ بیٹھک مسجد کے پہلو میں تھی۔پہلے لوگ نماز کے لیے جو جمع ہوتے تو اس بیٹھک میں قیام ہوتا اور دین کے متعلق باتیں ہوا کرتی تھیں۔جس وقت نماز کا وقت آجا تا لوگ جمع ہو جاتے تو تمام لوگ مسجد میں آجاتے۔نماز کے بعد لوگ پھر اپنے گھر چلے جاتے۔مسجد میں نماز سے پہلے اور بعد کوئی بات چیت نہ ہوتی تھی۔مسجد کے احاطہ میں حجرے بنے ہوئے تھے جن میں آپ کے شاگر درہا کرتے تھے مسجد کے پاس شمال کی طرف مغرب سے مشرق کو ایک نہر تھی جو آپ کے گھر کے صحن میں سے ہو کر گزرتی تھی۔آپ کے رہنے کی جگہ کوسید گاہ کہا جاتا تھا جو معروف بہ سید گاہ ہے۔کبھی ملک میں قحط سالی آتی تو اپنے تمام غلہ کو فروخت کر کے غریب لوگوں کی امداد میں لگا دیتے۔خوست میں مختلف چند گاؤں تھے جن کے آپ