شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 19
19 قریباً آٹھ کوس کا فاصلہ تھا کہ جہاں میرے ایک دوست کا گھر تھا میں نے گھر میں پاؤں رکھا ہی تھا کہ بارش بہت زور و شور سے حد درجہ کی ہوئی۔آخر میں نے رات تو وہیں گزاری جب صبح ہوئی تو پھر میں چل پڑا۔غڑک ایک مقام ہے وہاں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ کوچی لوگوں کا مال ( یعنی خانہ بدوش کا ) تمام ایک جگہ پر کہیں سوکہیں دوسو بکریاں بھیریں متفرق طور پر سردی اور بارش سے مری پڑی ہیں اور کہیں اونٹ مرے پڑے نظر آتے تھے۔یہ سب کا رروائی برف اور سردی کی تھی۔غڑک سے آگے ایک مقام خوشئے ہے وہاں مجھے پہنچنا تھا۔لیکن غرس کی پہاڑی پر پہنچتے وقت شام ہوگئی سورج ڈوبنے کے قریب تھا پر جگہ یہاں ایسی تھی کہ یہاں سے منزل مقصود بہت دور تھی اور کوئی رہنے کی جگہ نہ تھی۔یہاں بھی مجھ پر بارش ہوئی اور اولے پڑے میں دوڑ کر ایک غار میں چھپ گیا تھوڑی سی دیر کے بعد بادل پھٹ گئے اور سورج نکل آیا۔اس وقت میں نے دعاء کی کہ اے میرے مولیٰ یا تو اس سورج کو جوڈوبنے والا ہے کھڑا رکھیو اور یا زمین کی طنابیں کھینچ لو کہ میں خوشے پہنچ جاؤں اور کوئی صورت میرے پہنچنے کی نہیں۔تب خدا جانے کہ میری کونسی دعاء قبول ہوئی اور شام ہوتے ہوتے سورج ڈوبنے تک خوشے پہنچ گیا۔الحمد لله على ذالك - رات کو ایک مسجد میں بسیرا کیا یہ راستہ طے کرنا بہت مشکل تھا جو خدا نے مجھ سے طے کرایا۔اسی روز میں کابل پہنچ کر حاجی باشی کے پاس دوروز تک رہا اور اس کے ذریعہ سے خرج صاحبزادہ صاحب کو پہنچا دیا۔حاجی صاحب صاحبزادہ صاحب کے خاص دوست تھے۔وہاں سے میں اپنے گھر واپس آیا جو قریبا تمیں کوس کے فاصلہ پر ہے یہاں کوئی تین ماہ کے بعد میں مسجد میں تلاوت قرآن شریف کرتا تھا کہ مجھے الہام ہو او عــقــروانــاقة لو تسوى بهم الارض لكان خيرا لهم يعنی خدا کی اونٹنی ان لوگوں نے ماردی ہے اگر زمین ان پر ہموار ہوتی اور یہ پیدا نہ ہوتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا مگر یہ انکی حرکت اچھی