شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 18 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 18

کا بل بھیج دیا۔ان سواروں سے روایت ہے جو ان کے ساتھ تھے۔خدا جانے کہاں تک صحیح ہے کہ جب ہم کا ہل جا رہے تھے تو دو بار صاحب زادہ صاحب بیٹھے بیٹھے ہم سے گم ہو گئے پھر جب دیکھا تو پھر ویسے ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔پھر انہوں نے فرمایا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ تم مجھے زبردستی نہیں لے جاسکتے بلکہ میں ہی جاتا ہوں تب انہوں نے کہا کہ ہم بہت احتیاط اور ادب کے ساتھ کا بل لے گئے۔جب ہم کابل پہنچ گئے تو پھر حبیب اللہ خان کے بھائی امیر نصر اللہ خان کے سامنے پیشی تھی۔اس نے بغیر کسی قیل وقال کے حکم دیا کہ اس کا تمام مال و اسباب چھین لوپس تمام احباب اور زادراہ اور گھوڑ اوغیرہ سب چھین لیا گیا۔پھر حکم ہوا کہ ارگ کے قید خانہ میں لے جاؤ جہاں بڑے لوگ قید کئے جاتے ہیں۔وہاں آپ کو بہت تکلیف پہنچائی۔لیکن آپ کو دیکھا جاوے تو آپ اس وقت اور اس حالت میں بھی اپنے خدا کو یاد کرتے اور قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہے۔آپ قید خانہ میں تقریباً تین چار ماہ قید رہے۔ایک بار آپ نے کسی ذریعہ سے خبر بھیجی کہ مجھے خرچ بھیج دو۔اس وقت انہی کے گاؤں میں میں تھا۔آپ کے بال بچوں نے کہا کہ لتا نے خرچ مانگا ہے کوئی لے جانے والا نہیں مجھ سے کہا کہ آپ لے جائیں گے۔میں نے کہا کہ ہاں لے جاؤں گا۔سردی کا موسم تھا۔پہاڑی راستہ تھا۔میں تن تنہا چل پڑا منگل کے پہاڑ پر کیا دیکھتا ہوں کہ بہت سخت بارش آئی ہے مجھے خوف معلوم ہوا کہ موسم اور راستہ خطر ناک ہے بارش بخت ہے کہیں سردی سے نہیں مر نہ جاؤں میں نے بارش کو مخاطب ہو کر دعا کی اور کہا کہ آج میچ موعود علیہ السلام کے اصحاب یہاں آئے ہیں ایک تو قید خانہ میں ہے اور ایک اس کے لئے خرچ لے جا رہا ہے تم بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہو اور ہم بھی اپکی کے بندے ہیں تم ٹھہر جاؤ مجھ پر نہ برسنا۔اگر برسنا ہے تو میرے پیچھے پیچھے پر ہو۔جب میں آگے آگے اور بارش میرے پیچھے پیچے تھی اپنے طور سے کہ قریباً اٹھارہ میں قدم کے فاصلہ پر بارش برس رہی