شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 20
نہ تھی۔ساتھ ہی اس الہام کے یہ تقسیم ہوئی یہ ادنی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم ہیں بعض دوستوں کو میں نے خبر دی کہ مجھے تو یہ معلوم ہوا ہے کہ صاحب زادہ صاحب کو مار دیا گیا ہے۔لیکن یہ لوگ یہی جواب دیتے رہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایسے انسان کو مارا جائے۔میرا مقام جو ہے وہ سرحد اریوب اور قوم یونی (یعنی دیوانہ ) گاؤں کدران دریا کے کنارے پر آباد ہے۔میرے والد صاحب کا نام اللہ نور ہے اور قوم سے سید ہوں۔میرے والد صاحب بھی بے نظیر انسان تھے۔وہ اپنے وقت میں کہا کرتے تھے کہ یہ ملک ظلمت ہے تم مشرق کی طرف جاؤ وہاں آسمان سے ایک نور نازل ہوا ہے تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ گے کاش میں بھی اس وقت زندہ ہوتا تو میں بھی جاتا۔اب پھر وہی مضمون جارتی ہے۔شم خیل ایک مقام ہے وہاں کے تاجر عام طور پر کابل جایا کرتے ہیں وہاں میں معلوم کرنے کے لئے گیا۔ان سے معلوم ہوا کہ صاحب زادہ عبد اللطیف صاحب سنگسار ہو گئے ہیں اور ایک درخت کی مانند ان پر پتھر کے ڈھیر پڑے ہیں۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ کوئی بات نہیں یا تو میں بھی انکی مانند سنگسار ہو جاؤں گا اور یا ان کو نکال لاؤں گا خواہ ایک کے بدلے دو درخت کی مانند پتھر ہوں۔پھر میں نے کابل کی روانگی کا ارادہ کیا۔جب شم خیل پہنچا تو وہاں کے حاکم نے مجھے حکم دیا کہ تم گھر چلے جاؤ ورنہ تمہیں سخت سزا ملے گی۔میں نے کہا کہ میں نہیں جاتا۔شب انہوں نے مجھے سے دو سور و پید کی ضمانت لی اور چھوڑ دیا۔میں اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے کابل پہنچا۔وہاں بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ میں اس کام کے لئے آیا ہوں اور کہا کہ صاحبزادہ صاحب مرحوم کی سنگساری کی جگہ کونسی ہے وہ لوگ بہت ڈرے اور مجھے کہا کہ ہندو سوزاں میں ہے جہاں ہندو مرتے وقت جلائے جاتے ہیں پس جگہ دیکھ کر میں واپس آگیا اور خیال کیا کہ میرے نکالنے پر اُستاد صاحب یعنی صاحب زادہ صاحب راضی ہیں یا نہیں۔پھر میں نے رات کو دعا کی کہ اے مولیٰ کریم مجھے بتادے کہ میرا نکالنا صاحبزادہ صاحب مرحوم کو