واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 22

واقعات شیریں — Page 11

14 ایک دو منزل پر آگیا تو انہوں نے پھر عرض کی مگر اس نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است - یہاں تک کہ بادشاہ عین شہر کے پاس آگیا اور شہر کے اندر داخل ہونے لگا یا داخل ہو گیا ہے۔مگر پھر بھی اس بزرگ نے یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است - اسی اثناء میں خبر آئی کہ بادشاہ دروازہ شہر کے نیچے پہنچا تو اوپر سے دروازہ گرا اور بادشاہ ہلاک ہو گیا معلوم ہوتا ہے اس بزرگ کو کچھ منجانب اللہ معلوم ہو چکا تھا ، ( ملفوظات جلد ہشتم صد ۳-۳۷) " تیری خاطر انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اس پر کامل یقین رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔ایک شخص جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ ایک جہاز میں سوار تھے۔سمندر میں طوفان آگیا قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔اس کی دعا سے بچا لیا گیا اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خاطر ہم نے سب کو بچا لیا “ ( ملفوظات جلد دہم ص ۱۳) وو بادشاہ پر عتاب الہی جیسا اثر دعا میں ہے ویسا کسی اور نئے میں نہیں۔۔۔۔۔شیخ نظام الدین کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ بادشاہ کا سخت عتاب ان پر ہوا اور حکم ہوا کہ ایک ہفتہ تک تم کو سخت سزادی جائے گی۔جب وہ دن آیا تو وہ ایک مرید کی ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے۔اس مرید کو جب بادشاہ کے حکم کا خیال آیا تو وہ رویا اور اس کے آنسو شیخ پر گرے جس سے شیخ بیدار ہوا اور پوچھا کہ تو کیوں روتا ہے۔اس نے اپنا خیالی عرض کیا اور کہا کہ آج سزا کا شیخ نے کہا کہ تم غم مت کھاؤ ہم کو کوئی سزا نہ ہو گی میں نے ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مارکھنڈ گائے مجھے مارنے کے واسطے آئی ہے میں نے اس کے دونوں سینگ پکڑ کر اس کو نیچے گرا دیا ہے۔چنانچہ اسی دن بادشاہ سخت بیمار ہوا اور ایسا سخت بیمار ہوا کہ اس بیماری میں مر گیا۔یہ تصرفات الہی ہیں جو انسان کی سمجھ میں نہیں آتے “ ( ملفوظات جلد ہشتم می ۳) فقیر کی موت " موت انہی کی اچھی ہوتی ہے جو مرنے کیلئے ہر وقت آمادہ