واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 22

واقعات شیریں — Page 12

۲۱ رہتے ہیں۔فرید الدین عطاء رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ عطاری کی دوکان کیا کرتے تھے۔ایک دن صبح ہی صبح جب آ کر انہوں نے دوکان کھولی تو ایک فقیر نے آکر سوال کیا۔فرید الدین نے اس سائل کو کہا کہ ابھی بوسنی نہیں کی۔فقیر نے ان کو کہا اگر تو ایسا ہی دنیا کے دھندوں میں مشغول ہے تو تیری جان کیسے نکلے گی۔فرید الدین نے اس کو جواب دیا کہ جیسے تیری نکلے گی۔فقیریہ سن کر وہیں لیٹ گیا اور کہا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحمد رسُول اللہ اور اس کے ساتھ ہی اسکی جان نکل گئی۔فرید الدین نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو بہت متاثر ہوا۔اسی وقت ساری دکان لٹا دی اور ساری عمر یاد الہی میں گزار دی۔“ ظاہر پر نظر نہ کرو " ( ملفوظات جلد هشتم صداه) ذوالنون مصری ایک باکمال شخص تھا اور اس کی شہرت باہر دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔ایک شخص اس کے کمال کو سن کر اس کے ملنے کے واسطے گیا اور گھر پر جا کر اسے پکارا تو اسے جواب ملا کہ خدا جانے کہاں ہے کہیں بازار گیا ہوگا وہ جب بازار میں ان کی تلاش کرتا ہوا پہنچا تو وہ بازار میں معمولی طور پر سادگی سے کچھ سودا خرید رہا تھا۔لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ذوالنون ہے۔اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ رنگ پست قامت آدمی ہے۔معمولی سا لباس ہے۔چہرہ پر کچھ وجاہت نہیں معمولی آدمیوں کی طرح بازار میں کھڑا ہے۔اس سے اس کا سارا اعتقاد جاتا رہا۔اور کہا یہ تو ہماری طرح ایک معمولی آدمی ہے۔ذوالنرون نے اس کو کہا کہ تو کس لیے میرے پاس آیا ہے جبکہ تیرا ظاہر پر خیال ہے۔ذوالنون نے اس کے مافی الضمیر کو دیکھ لیا تھا اس لیے کہا کہ تیری نظر ظاہر پر ہے تجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ایمان تب سلامت رہتا ہے کہ باطن پر نظر رکھی جاوے “ ( ملفوظات جلد ہشتم صدا کرامت کا معیار " میں نے تذکرۃ الاولیاء میں ایک لطیفہ دیکھا کہ ایک شخص یک بزرگ کی نسبت بد گمانی رکھتا تھا کہ یہ مکار ہے اور فاسق ہے ایک دن ان کے پاس آیا اور کہا کہ حضرت کوئی کرامت تو دکھاؤ فرمایا میری کرامت تو ظاہر ہے۔باوجودیکہ تم تمام دنیا کے معاصی مجھ میں بتاتے ہو۔مگر پھر دیکھتے ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے عرق نہیں کرتا۔لوط کی بستنی تباہ ہوئی۔عاد و ثمود وغیرہ تباہ ہوئے مگر