واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 22

واقعات شیریں — Page 10

14 14 دوستی ہی کیوں کی ہے ( ملفوظات جلد ہفتم ص۲) غیبت کیوں کی ؟ " ایک صوفی کے دو مرید تھے ایک نے شراب پی اور نالی میں بے ہوش ہو کر گیا۔دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے اور جا کر اٹھا نہیں لاتا وہ اسی وقت گیا اور اسے اٹھا کر لے چلا۔کہتے تھے کہ ایک نے تو بہت شراب پی۔لیکن دوسرے نے کم پی کہ اسے اٹھا کر لے جا رہا ہے۔صوفی کا مطلب یہ تھا کہ تو نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں ( ملفوظات جلد ہفتم مث) کی ، " ابتلا میں کامیابی ثمنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے پاس ایک دفعہ کھانے کو نہ تھا وہ بزرگ اور اس کے ساتھی سب بھوکے تھے اتنے میں ایک لڑکا حلوہ بیچتا ہوا وہاں سے آگزرا ، اس بزرگ نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اس سے حلوہ چھین لو چنانچہ آدمیوں نے ایسا کیا اور وہ حلوہ بزرگ نے اور اس کے ساتھیوں نے کھا لیا۔وہ لڑکا وہ بہت رویا اور پھیلایا آدمیوں نے سوال کیا کہ اس میں کیا حکمت تھی کہ بچہ کا حلوہ چھین لیا۔فرمایا کہ یہی اس بچہ کی پونجی بھی بہت درد کے ساتھ رویا ہے اور اس کا رونا موجب کشائش اور فتوح کا ہوا ہے جو ہماری دعائیں نہیں ہو سکتی تھیں۔چنانچہ اس بچہ کو اس کے حق سے بہت زیادہ دیگر راضی کیا گیا۔اسی طرح بعض ابتلا صرف اس واسطے آتے ہیں کہ انسان اس رتبہ کو جلد حاصل کرلے جو اس کے واسطے مقدر ہیں۔" ( ملفوظات جلد ہفتم ص۳۶۳-۳۶۴) ہنوز دلی دور است مشکلات کے وقت دعا کے واسطے پورا جوش دل میں پیدا ہوتا ہے کوئی خارق عادت امر ظاہر ہوتا ہے کہتے ہیں دہلی میں ایک بزرگ تھے۔بادشاہ وقت اس پر سخت ناراض ہو گیا۔اس وقت بادشاہ کہیں باہر جاتا تھا حکم دیا کہ واپس آکر تم کو ضرور پھانسی دوں گا اور اپنے اس حکم پر قسم کھائی جب اس کی واپسی کا وقت قریب آیا تو اس بزرگ کے دوستوں اور مریدوں نے غمگین ہو کر عرض کی کہ بادشاہ کی واپسی کا وقت اب قریب آگیا ہے۔اس نے جواب دیا ہنوز دلی دور است - جب بادشاه