حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 27
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 27 خود نوشت حالات زندگی اور اس کے علاوہ ایک رسالہ بعنوان "الحقائق عن الاحمدية “ بھی شائع کیا گیا۔جب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ۱۹۲۴ ء لندن میں تشریف لے گئے ہیں تو آپ جاتے ہوئے دمشق میں بھی ٹھہرے ہیں۔میرے ایک قدیم دوست شیخ عبد القادر المغر بی بھی حضور سے ملے۔یہ ایک چوٹی کے ادباء میں سے تھے۔حضور کی باتیں سن کر انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ ان کا ملک دین سے خوب واقف ہے۔عربی ان کی زبان ہے۔یہاں آپ کی دعوۃ الی اللہ کا اثر نہیں ہوگا۔بہتر ہے کہ افریقہ میں کوشش کی جائے۔حضور نے اسی وقت پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ لندن سے واپسی پر اس کا جواب دمشق میں (مربی) بھیج کر دیا جائے گا۔دمشق کے بارہ میں حضور کا ارشاد مبارک چنانچہ حضور نے مجھے اس سفر میں ہی اطلاع دی کہ میں تیار رہوں۔ایک دن میں اور شمس صاحب ” دار الدعوۃ میں بعض دوستوں سے احمدیت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ شیخ عبد القادر المغربی مرحوم تشریف لائے اور بیٹھ کر ہماری باتیں سنیں۔اثنائے گفتگو میں استخفاف سے اپنی سابقہ ملاقات کا ذکر کیا اور جو مشورہ حضور کو دیا تھا اسے دہرایا اور مذاقاً کہا کہ الہامات کی عربی عبارت بھی درست نہیں۔میں نے خطبہ الہامیہ (تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ان کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ پڑھیں کہاں عربی غلط ہے۔علامہ المغربی کی عربی دانی۔انہوں نے اونچی آواز سے پڑھنا شروع کیا اور ایک دو لفظوں سے متعلق کہا کہ یہ عربی لفظ ہی نہیں۔(مولانا جلال الدین) شمس صاحب نے تاج العروس ( عربی لغت کی کتاب) الماری سے نکالی اور وہ لفظ نکال کر انہیں دکھائے۔سامعین کو حیرت ہوئی اور میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کہا۔کہلاتے تو آپ ادیب ہیں لیکن آپ کو اتنی عربی بھی نہیں