حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 26
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب پنشن یکم جون ۱۹۵۴ء ۱۴ دوبارہ ملازمت بحیثیت ناظر امور خارجه اله 26 26 خود نوشت حالات زندگی نظارت تصنیف، امور عامہ و خارجہ میں خدمات نظارت تصنیف میں بحیثیت کارکن تصنیف صحیح بخاری کا ترجمہ اور شرح بارشاد حضرت خلیفہ المسیح میرے سپرد ہوئی مگر جلد ہی میں نظارت ( دعوۃ الی اللہ ) میں منتقل کیا گیا اس ارشاد کے ساتھ کہ مجھے تصنیف کا کام بھی دفتری اوقات کے علاوہ جاری رکھنا ہوگا اور پانچ سال کے بعد جب نظارت امور عامہ اور امور خارجہ میرے سپرد ہوئی تو حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا یہی ارشادد ہرایا گیا۔اسی اثناء میں باوجود کثرت مشاغل اور قلت وقت ہر کام میں نے جاری رکھا اور اس وقت ترجمہ مکمل ہے۔(۱۹۶۱ء کا ذکر ہو رہا ہے ) اور سولہویں پارہ کتاب المغازی کی شرح شروع ہے۔وباللہ التوفیق ان میں سے دو پارے تقسیم سے قبل قادیان میں شائع ہو چکے تھے اور تیسرا پارہ زیر طبع ہے اور شائع ہونے والا ہے۔(بعد ازاں یہ بھی شائع ہو گیا) بلاد عر بیہ میں بغرض تبشیر ۱۹۲۵ء میں (میں ) اور ( مولانا جلال الدین ) شمس صاحب بلاد عر بیہ کو ( دعوۃ الی اللہ کیلئے دمشق کے بھیجے گئے۔اس بارہ میں حضور کا ارشاد الفضل گیارہ جولائی ۱۹۲۵ء میں شائع ہوا ہے۔دمشق میں میں ”دعوت الی اللہ کے مرکز قائم کرنے کی غرض سے چھ ماہ کے قریب مقیم رہا۔اس اثناء میں یہ ضرورت محسوس کر کے کہ زیر تربیت ) لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام دیکھنے کی خواہش ہے ”کشتی نوح کا ترجمہ کیا اور اس سے قبل اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ ہوکر شائع ہو چکا تھا لیکن ان ممالک میں اس کی اشاعت بہت محدود تھی اور اب دمشق میں اس کتاب کی بھی اشاعت ہوئی۔علاوہ ازیں مسئلہ حیات مسیح سے متعلق ایک مبسوط کتاب بعنوان "حياة المسيح و وفاته من وجهاتها الثلاث “ شائع کی گئی