حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 28 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 28

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 28 28 خود نوشت حالات زندگی آتی جتنی میرے شاگرد کو (شمس صاحب ان دنوں مجھ سے انگریزی پڑھتے تھے ) اس پر انہیں بڑا غصہ آیا اور یہ کہتے ہوئے اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے اُرِيكَ عَـــدا نــجـــوم کل میں تمہیں ظہر کے تارے دکھاؤں گا۔( یہ عربی زبان کا محاورہ ہے ) میں نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ سامعین میں سے (اس وقت) کچھ متاثر ہیں اُن سے کہا۔یہ میرے پرانے دوست ہیں۔صلاح الدین ایوبیہ کالج میں علیم ادب پڑھایا کرتے تھے اور سامعین کو علم تھا کہ میں بھی وہاں پڑھایا کرتا تھا۔میں نے کہا انہیں خطبہ الہامیہ پڑھ کر ایسی رائے کا اظہار نہ کرنا چاہئے تھا۔بجائے ناواقف ہونے کے انہیں حق بات مان لینی چاہئے تھی۔جب دوست چلے گئے اور شام ہوگئی تو ( حضرت مولانا جلال الدین ) شمس صاحب نے مجھ سے کہا حضرت خلیفہ اسیح (نور اللہ مرقدہ) نے الوداع کرتے وقت آپ کو یہ نصیحت کی تھی کہ شیخ عبد القادر المغربی سے نہیں بگاڑنا۔وہ آپ کے دوست ہیں اور ان کا شہر میں بڑا اثر ہے۔میں نے شمس صاحب سے کہا۔فکر نہ کریں۔وہ میرے دوست ہیں۔میں انہیں ٹھیک کرلوں گا۔کل صبح ہم دونوں ان کے پاس جائیں گے۔دوسرے دن صبح سویرے ہم دونوں ان کے مکان پر گئے۔دستک دی تو مغربی صاحب تشریف لے آئے اور آتے ہی مجھ سے بغلگیر ہوئے اور مجھے بوسہ دیا اور کہا کہ آپ سے معافی مانگتا ہوں۔میں آپ کی طرف آنا ہی چاہتا تھا۔اندر تشریف لے آئیں۔قہوہ پئیں اور میں آپ کو دکھاؤں کہ میری رات کیسے گذری۔ہم اندر گئے تو انہوں نے رسالہ ”الحقائق عن الاحمدیہ “ کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ رسالہ میرے ہاتھ میں تھا اور غصہ میں باہر آیا اور پختہ ارادہ کیا کہ اس رسالہ کا رڈ شائع کروں۔میں نے حدیث اور تفاسیر کی کتب جو میرے پاس تھیں وہ میز پر رکھ لیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر رڈ لکھنا شروع کر دیا۔ادھر سے رسالہ پڑھتا اور رڈ لکھنے کے لئے کتابیں دیکھتا۔ایک رڈ لکھتا اس میں تکلف معلوم ہوتا۔اسے پھاڑا پھر ایک اور رڈلکھتا اور اسے بھی پھاڑا اور اسی طرح رات بہت گذر گئی۔بیوی نے کہا رات بہت گزرگئی آرام کر لیں۔میں نے کہا سید زین العابدین نے