حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 44 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 44

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 44 خود نوشت حالات زندگی جموں و کشمیر میں بھیجا، سیاسی نمائندگی کی خدمت مجھے تفویض فرمائی اور اپنی ہدایات کے ساتھ اس غرض سے جموں سری نگر وغیرہ مقامات میں بھیجتے رہے کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب شیر کشمیر کی سیاسی جدو جہد میں رہنمائی اور مدد کی جائے اور اس تعلق میں مجھے ۱۹۳۱ء سے ۱۹۳۶ ء کے آخر تک کام کر نا پڑا اور میرا قیام جموں وکشمیر میں ار پانچ ماہ تک ہوتا اور جو بی شیخ صاحب موصوف اپنی جدو جہد میں مایوس ہونے لگتے تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) ان کی ہمت اور امید باندھتے۔آپ نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ وہ آل جموں اینڈ کشمیر کا نفرنس کا انعقاد کر کے اپنی جدوجہد منظم کریں۔یہ واقعہ ۱۹۳۲ء کا ہے اور میں ان کی امداد کیلئے بھیجا گیا۔شیخ صاحب موصوف کا دفتر پتھر مسجد سے ملحق تھا حکومت کے رویے سے وہ سخت مایوس تھے اور اس بارے میں وہ حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ کولکھ چکے تھے۔جو نہی مجھے اطلاع ملی کہ حکومت نے ان کی درخواست متعلقہ اجازت انعقاد کا نفرنس رڈ کر دی ہے تو بغیر شیخ صاحب کو اطلاع دیئے میں مسٹر جارڈین پولیٹیکل منسٹر سے ملنے کیلئے گیا۔وزراء کے ساتھ میرے بے تکلفانہ تعلقات تھے۔خصوصا مسٹرل اتھر انسپکٹر جنرل پولیس سے۔اسی طرح چیف جسٹس سر دلال سے بھی۔مسٹر جارڈین نے گفتگو کے دوران میں مجھ سے پوچھا کہ ہندوستان میں انگریزوں کے مستقبل سے متعلق میری کیا رائے ہے۔میں نے بے ساختہ کہا very dark یعنی ( بہت تاریک) کہنے لگے ان کی بھی یہی رائے ہے۔اس بے تکلفانہ گفتگو کے (اثناء ) میں ان سے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ کونسل نے شیخ محمد عبداللہ صاحب کی درخواست رڈ کر دی ہے اور انہیں کانفرنس کے قائم کرنے کی اجازت نہیں دی۔کہنے لگے یہ درست ہے۔میں نے کہا مجھے تعجب ہے کہ آپ جیسے مشیر سیاسی کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا ہو۔پوچھا کیوں اس میں کیا غلطی ہے۔میں نے کہا:۔Council has committed a very serious blunder this would mean to hurt the Kashmiri people into the very arms of mischief mongers۔They would go to Sialkot and hold their conference there۔