حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 45 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 45

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 45 خود نوشت حالات زندگی یعنی کونسل نے بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ لوگ سیالکوٹ جائیں گے اور وہاں کا نفرس قائم کریں گے اور اس طرح یہ اُن لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے جو فسادی اور فتنہ انگیز ہیں ( یعنی احرار )۔اس پر کہنے لگے کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ ایسا کریں گے؟ میں نے کہا I am dead sure یہاں سے فارغ ہو کر میں شیخ عبداللہ صاحب کے پاس اس غرض سے گیا کہ یہ معلوم کروں کہ آیا ان کو بھی اطلاع مل چکی ہے یا نہیں۔میرے جواب کا انہیں وہم بھی نہ تھا۔جب میں وہاں گیا تو شیخ محمدعبداللہ صاحب اور عبدالرحیم صاحب ایم۔اے کے سوا وہاں کوئی نہ تھا۔پتھر مسجد کا جلسہ مفتی ضیاء الدین صاحب پونچھی اور دیگر کارکنان سب غائب۔ان کا دفتر وغیرہ سنسان سا معلوم ہوا۔سونے والے کمرہ میں گیا تو شیخ صاحب بستر پر لیٹے تھے اور انفلوئنزا سے بیمار۔میں نے کہا شیخ صاحب خیر تو ہے۔کہنے لگے کل رات بڑا فساد ہوا ہے۔کونسل کے انکار کی وجہ سے یہاں کارکنان کے درمیان بڑی گالی گلوچ ہوئی کہ احمدیوں کے پیچھے لگ کر نظام کا احترام کرنے کی وجہ سے یہاں تک نوبت پہنچی کہ ایک جائز مطالبہ بھی ٹھکرا دیا گیا ہے اور مفتی ضیاء الدین صاحب نے اس بات پر بڑا اودھم مچایا اور بوریا بستر اٹھا کر یہاں سے چلتے بنے کہ وہ الگ کام کریں گے۔میں نے کہا شیخ صاحب بالکل فکر نہ کریں اور انہیں مشورہ دیا کہ آج رات پتھر مسجد میں جلسہ ہو۔جس پر انہوں نے کہا کہ وہ تو جلسہ کی صدارت نہیں کریں گے وہ کافی سن چکے ہیں بلکہ میں صدر بنوں۔میں نے کہا مجھے منظور ہے۔(حضرت مولانا ) عبدالرحیم صاحب ایم۔اے (اللہ آپ سے راضی ہو ) جو قریب ہی ایک کمرہ میں تھے انہیں بلایا گیا جب انہیں میری تجویز کا علم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے اور میرے گلے لپٹ گئے۔شام کو جلسہ ہوا اور میں صدر تھا۔پتھر مسجد بڑی وسیع اور شاہی مسجد ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ایک دو