حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 42
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 42 خود نوشت حالات زندگی کر مجھ سے زیادہ سننے کے شوقین معلوم ہوتے ہیں۔اس پر سب ہنس پڑے اور مجتہد صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔ایک ایمان افروز واقعہ اس الہی تائید کے تعلق میں ایک اور ایمان افروز واقعہ یہ ہے کہ جب میں بغداد پہنچا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ بغداد کے بعض اوباشوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بُرا بھلا کہا اور آپ کو اس قدرتنگ کیا ہے کہ آپ کو کہیں پناہ نہ ملی۔ایک غیر آبادخشک کنوئیں میں آپ پناہ گزیں ہیں اور تیسرا دن ہے کہ نہ آپ نے کھایا ہے نہ پیا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے اس حالت میں دیکھا تو میں گھبرا گیا اور اس کنویں کے ارد گرد چکر لگانے لگا اور میں رورہا ہوں اور اس کوشش میں ہوں کہ کسی طرح نیچے پہنچوں اور حضور کے کھانے کا انتظام کروں اور اسی حالت گریہ وزاری میں بغداد کے لوگوں سے مخاطب ہوں۔افسوس تم نے اپنے ایک خیر خواہ کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔وہ تمہاری بھلائی کے لئے بھیجا گیا۔عربی کے الفاظ تھے اور یہ الفاظ اور میرا رونا اس قدر بلند ہوئے کہ میرے برادر نسبتی سید محمد ابراہیم مرحوم اور ان کی ہمشیرہ جو میرے قریب ہی سوئے تھے چونک پڑے اور کہنے لگے۔سید زین العابدین کیا ہے؟ میں نے انہیں ماجرا سنایا۔ابراہیم بولے خدا کی قسم میں ابھی یہ خواب دیکھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قبر سے نکلے ( ہیں ) اور آپ دوڑ کر ان سے بغلگیر ہوئے ہیں۔(انہوں نے بیعت کر لی تھی) غرض میرا بغداد کی طرف جانا سراسر مشیت الہی کے تحت تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان الفاظ میں میری حوصلہ افزائی فرمائی۔جب ملک فیصل مرحوم کے سابقہ حکم کے منسوخ کئے جانے کی اطلاع ملی تو اس کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ پابندی پر تیسر ا سال گزر ہاتھا اور یہی مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ تیسرا دن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کنویں میں پناہ گزیں ہیں اور کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔میں نے جماعت احمد یہ بغداد کے امیر جعفر صادق مرحوم سے کہا کہ آپ کو