حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 100 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 100

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 100 ذکر حبیب قادیان میں پڑھا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمام کنبہ کا اپنے گھر میں ہی گول کمرہ میں رہائش کا انتظام کیا کرتے تھے اور رخصت کے ختم ہونے پر حضرت والدہ صاحبہ اور دیگر کنبہ کو جانے نہ دیا کرتے تھے اور اس قدر محبت و شفقت کا اظہار فرمایا کرتے تھے کہ ہمیشہ اپنے کھانے سے کھانا بھجوایا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ دو پہر کے وقت ہم اس مکان میں ( جو حرم اول کا مکان ہے ) کھانا کھا رہے تھے۔کھانے میں مرغی کا گوشت تھا۔قاضی عبد اللہ صاحب کی ہمشیرہ امتہ الرحمن نے آ کر کہہ دیا کہ یہ مرغی آپ کو اس لئے بھیجی گئی ہے کہ ان میں وہ گھی پڑا ہے جس میں بلی نے منہ ڈالا تھا۔والدہ صاحبہ طبیعت کی بہت نازک تھیں۔خادمہ کو کہا کہ تم نے ہمیں کیوں ایسا کھانا بھیج دیا ہے خادمہ نے کہیں جا کر حضرت (اماں جان ) یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ ذکر کر دیا کہ امتہ الرحمن نے یہ انہیں شبہ ڈال دیا ہے۔ہم کھانا ہی کھا رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود سر سے ننگے پاؤں سے ننگے ہاتھ میں رکابی پکڑی ہوئی دروازہ کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا۔والدہ ( ولی اللہ ) کہاں ہیں میں نے جواب دیا کہ حضور کھانا کھا رہی ہیں۔فرمایا:۔امتہ الرحمن نے غلط بیانی کی ہے اور یونہی شبہ ڈال دیا ہے دیکھو میں بھی اُسی کھانے سے کھانا کھا رہا ہوں۔آپ کو اپنے مہمانوں کے احساسات کا اسقدر گہرا خیال تھا۔والدین سے آپ کو بہت ہی محبت تھی۔خصوصاً والدہ صاحبہ کے ساتھ اور آپ نے والدہ صاحبہ کو کبھی پاؤں دبانے کی اجازت نہیں دی اور اس قدر احترام تھا کہ والدہ صاحبہ کی خاطر قرآن مجید کا درس عورتوں میں جاری کیا اور پہلا درس آپ نے دیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبد الکریم صاحب کو بلا کر کہا کہ والدہ ( ولی اللہ ) رعیہ سے تشریف لائی ہیں اور مجھے ان کے متعلق بہت ہی خیال رہتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اُن کی خاطر عورتوں میں قرآن مجید کا درس جاری کیا جائے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے درس دیتے ہوئے یوں تمہید باندھی اور کہا کہ میں سید عبد الستار صاحب کی اہلیہ کو مبارک دیتا ہوں کہ آپ کی خاطر اللہ