ولادت سے نبوت تک — Page 17
دیتا۔ڈاکو راستہ بدل کر نکلنے لگے تو بچہ پھر سامنے آگیا۔ان لوگوں کو حیرت ہوئی کہ اتنے سارے بڑے بڑے آدمیوں کے سامنے چند سال کا بچہ کیسے کھڑا ہو گی۔وہ پھر دوسری طرف بیٹے اور نکلنے کی کوشش کی تو پھر محمد نے ان کو روکا۔آخر تنگ آکر انہوں نے پوچھا کہ بچے کیا بات ہے۔بہادر بچے نے جواب دیا کہ یہ کمر باں گاؤں والوں کی ہیں ہم انہیں چرانے لائے تھے میں آپ کو ان کی اجازت کے بغیر نہیں لے جانے دوں گا۔سارے ڈاکو حیران تھے کہ یہ کیسا بچہ ہے۔انوکھی باتیں کر رہا ہے۔ہمارے سامنے تو بڑے بڑوں کو ٹھرنے کی جرات نہیں ہوتی لیکن یہ تو اپنی جگہ سے ہٹتا ہی نہیں۔ڈاکوؤں نے بار بار کہا کہ بچے تم بہت پیارے اور اچھے بچتے ہو ہم تم کو مارنا نہیں چاہتے۔اس لئے ہمیں ہمارا کام کرنے دو۔اور راستے سے ہٹ جاؤ لیکن مقادیر محمد تو اپنی جگہ پرائل تھا کہ گاؤں والوں سے اجازت لے لو پھر لے جاؤ۔ایسے نہیں جانے دوں گا۔بچہ پھر کیا ہوا ؟ ماں ادھر گھوڑے پر سوار آدمی جو اُن کا سردار تھا۔زور سے دھاڑا کہ کیا بات ہے۔کیوں نہیں چلتے جلدی کرو۔اور جب اس کو بنایا گیا کہ ایک چھوٹا بچہ راستہ نہیں دے رہا تو اس کے غصہ کی انتہا ہو گئی۔چیخا کہ ایک بچے تو نہیں ہٹا سکتے۔ہمارے سامنے تو بڑے بڑے بہادر نہیں بھرتے بچے کی کیا بات ہے۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کونسا بچہ ہے ! آخر وہ خود آگے آیا۔جیسے ہی اس کی نظر اس معصوم بچے پر پڑی تو وہ بھی حیران ہو گیا۔واقعی کمال کا بچہ ہے چہرے پر کوئی خوف کے آثار نہیں۔بڑے اطمینان سے اپنے ننھے ننھے ہاتھ پھیلائے راستہ روکے کھڑا ہے کیسا حوصلہ اور