ولادت سے نبوت تک — Page 18
۱۸ عزم ہے اس دلیر بہادر کا بچہ ڈاکوؤں کے سردار نے ایسا بچہ پہلے تو نہیں دیکھا ہو گا۔ماں یقینا نہیں۔وہ بچے کی عظمت کا قائل ہوتا ہوا گھوڑے سے اتر آیا۔پوچھا کہ ہمارے راستے سے کیوں نہیں ہٹ جاتے ننھے معصوم کا جواب تھا کہ یہ بکریاں گاؤں والوں کی ہیں ہیں ان کی اجازت کے پر نہیں جانے دوں گا بسردار کو اس کی معصومانہ لیکن پر عزم دلبرانہ گفتگو میں لطف آنے لگا۔پھر اولا بچے تمہارا نام کیا ہے۔جواب ملا محمد وہ پھر حیران ہوا۔کیسا انوکھا اور پیارا نام۔اس نے زیر لب دہرایا محمد واقعی اس نام میں بھی لذت اور مٹھاس ہے۔پھر پوچھا تمہارے ابو کا کیا نام ہے۔فوراً جواب ملا عبد المطلب ( پیارے محمد دادا کو ابو مجھے تھے کیونکہ ان کے ابو جان کا انتقال ہو چکا تھا ، ڈاکوؤں کے سردار کو قریش کے معزز خاندان اور مکہ کے سردار کو پہچانتے میں دیر نہ لگی۔بے ساختہ بول اٹھا کہ سردار قریش کے بیٹے کو ایسا ہی بہادر ہونا چاہیے۔یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ گھوڑوں پر سوار ہو جاؤ۔اور بکریاں چھوڑ دو پھر خود تھے مقدس معصوم دلیر کو سلام کر کے سوار ہوا اور گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے سارے ڈاکو تیزی سے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔بچہ کمال کر دیا نتھے محمد نے۔ماں ڈاکوؤں کا سردار اگر جان لیتا کہ یہ بچہ صرف سردار قریش کا ہی بچہ نہیں بلکہ یہ تو نبیوں کا سردار ہے اس کو تو انیسی امانت سپرد ہونے والی ہے جو تخلیق کائنات سے پہلے ہی لوح محفوظ پر خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔اگر آج یہ اِن