وحی و الہام — Page 56
56 56 انْقَطَعَتْ وَلَكِنَّ النُّبُوَّةِ الَّتِي لَيْسَ فِيْهَا إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ فَهِيَ بَاقِيَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ لَا انْقِطَاعَ لَهَا أَبَدًا۔“ 66 یعنی حدیث لَم يَبْقَ مِنَ النبوة دلالت کرتی ہے کہ نبوت تامہ کاملہ جو اپنے اندر وحی شریعت رکھتی ہو ختم ہو چکی ہے۔لیکن وہ نبوت جس میں صرف مبشرات ہیں، قیامت تک باقی ہے۔وہ ہرگز ختم نہ ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ وحی جو ایک ” تابع نبی“ پر نازل ہو یعنی اس میں کوئی نئی شریعت نہ ہو اور وہ صرف وحی مبشرات ہو، ہمیشہ جاری رہے گی اور کبھی منقطع نہ ہوگی۔چنانچہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی آنحضرت ﷺ کے امتیوں میں سے مقام نبوت پانے والوں کی شان میں فرماتے ہیں: أُوتِيَ الْأَنْبِيَاءُ اِسْمَ النُّبُوَّةِ وَ أَوْتِيْنَا اللَّقَبَ أَيْ حُجِرَ عَلَيْنَا اِسْمُ النَّبِيِّ مَعَ اَنَّ الْحَقَّ تَعَالَى يُخْبِرُنَا فِي سَرَائِرِنَا بِمَعَانِيَ كَلَامِهِ وَكَلَامِ رَسُوْلِهِ ﷺ وَ يُسَمَّى صَاحِبُ هَذَا الْمَقَامِ مِنْ أَنْبِيَاءَ : الْاَوْلِيَاءَ فَغَايَةُ نُبُوَّتِهِمُ التَّعْرِيْفَ بِالْاحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ حَتَّى لَا يُخْطِئُوْا فِيْهَا لَا غَيْرَ “ 66 الیواقیت والجواہر جلد 2 صفحہ 374 الحث الخامس والثلاثون فی کنم محمد خاتم النبين كما به صرح القرآن - و نبر اس شرح الشرح لعقائد سیفی حاشیہ صفحہ 445) یعنی انبیاء کو تو نبی کا نام دیا گیا ہے۔اور ہم انتی صرف لقب نبوت پاتے ہیں۔ہم سے النبوۃ کا نام ( یعنی محض نبی کہلانے کا حق ) روکا گیا ہے۔باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ ہمیں خلوت میں اپنے کلام اور اپنے رسول ﷺ کے کلام کے معانی سے خبر دیتا ہے۔اور نبیوں کے اس مقام والے ولی کہلاتے ہیں۔ان کی (اس نوع کی ) نبوت کی غرض یہ ہوتی