وحی و الہام — Page 57
57 ہے کہ وہ احکام شریعت سے آگاہ کریں۔اس میں وہ غلطی نہیں کھاتے۔اس کے علاوہ ( ان کی اس نبوت کی ) کوئی غرض نہیں۔حضرت پیران پیر نے اس قول میں ایک قسم کی نبوت کو امت محمدیہ میں جاری مانا ہے۔اور اُمت کے اندر ہونے والے نبیوں کو نبی کہلانے کا پورا حقدار سمجھا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو انبیاء میں شمار کیا جاتا ہے۔یعنی وہ اولیاء اللہ ہیں مگر انہیں نبوت کا لقب دیا جاتا ہے۔پس امت میں اس طرح بھی نبوت جاری ہے۔اس مسئلہ پر ایک اور زاویہ سے راشنی ڈالتے ہوئے حضرت مجددالف ثانی اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں: إِنَّ كَلَامَ اللهِ قَدْ يَكُونُ شَفَاهاً وَذَلِكَ الْأَفَرَادُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَقَدْ يَكُونَ لِبَعْضِ الْحُمَّلِ مِنْ مُّتَابِعِيهِمْ “ یعنی اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں سے بالمشافہ کلام کرتا ہے اور یہ لوگ انبیاء ہوتے ہیں اور کبھی انبیاء کے بعد ان کے کامل متبعین سے بھی اس طرح کلام کرتا ہے۔آگے فرماتے ہیں: وَإِذَا كَثُرَ هذَا الْقِسْمُ مَعَ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ سُمِّيَ مُحَدَّثًا۔یعنی جب انبیاء میں سے کسی کے کامل متبع سے خدا تعالیٰ اس قسم کا کلام بکثرت کرتا ہے تو اس کا نام محد ث یعنی مکلم میں اللہ رکھا جاتا ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ الہیہ جو غیب کی خبروں پر بھی مشتمل ہو، نبوت کی ایک نوع ہے جسے اسلامی اصطلاح میں محدثیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔آیت کریمہ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُول “(سورۃ الجن : 27-26) اس پر دال