وحی و الہام — Page 55
55 تسلسل ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ امت کو مسلسل پہنچ رہا ہے۔رسول اللہ ﷺ پر وحی ختم ہونے مطلب یہی ہے کہ آپ کی وحی آپ کے بعد کے زمانے میں نازل ہونے والی وحی پر مصدق ہے اور اسی کے فیض سے فیضیاب ہے۔حضرت مسیح موعود الﷺ نے اسی کتاب میں جس کی مذکورہ بالا عبارت پیش کی گئی ہے، اپنے پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔کہ لَمَّا بَلَغَتُ اَشُدَّ عُمُرِى وَبَلَغَتُ اَرْبَعِينَ سَنَةٌ جَاءَ تُنِي نَسِيمُ الْوَحْيِ“ (التبلیغ۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 584) کہ جب میں جوان ہوا اور میری عمر چالیس برس کو اچھی تو مجھے وحی کی باد نسیم پہنچی۔پھر حضور نے فرمایا: وَ أَوْحَى إِلَى رَبِّي مَا أَوْحَى ، ايضا صفحہ 382) کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ چاہا میری طرف وحی کیا۔“ پس مصنف کی ایک تحریر کو درمیان میں سے اچک لینا اور باقی تحریروں کو نظر انداز کر دینا کوئی منصفانہ طریق نہیں۔اس کی اس نوع کی دیگر تحریرات کے مختلف زاویوں کو بھی دیکھنا چاہئے۔پھر مجموعی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ مصنف کی اس زیر نظر تحریر کا کیا مطلب نکلتا ہے اور یہ کہ مصنف کس پہلو سے کیا بیان کر رہا ہے۔دراصل حضرت مسیح موعود الﷺ نے اپنی کتاب توضیح المرام (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 61) میں حدیث لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبوَةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ “ کی تشریح کرتے ہوئے وحی کے متعلق پہلے ہی وضاحت فرما دی تھی کہ: الحَدِيثُ يَدُلُّ عَلى اَنَّ النُّبُوَّةَ التَّامَّةَ الْحَامِلَةَ لِوَحْيِ الشَّرِيعَةِ قَدِ