وحی و الہام

by Other Authors

Page 35 of 76

وحی و الہام — Page 35

35 مشتمل ہیں بعض تو خود دلائل ہیں اور بعض کتابیں یاد دہانی کراتی ہیں ان باتوں کی جوان سے پہلی کتب میں وارد ہیں۔“ زبور اس کی واضح مثال ہے۔مشہور یہ ہے کہ وہ ایک کتاب ہے جو حضرت داؤد پر نازل ہوئی۔ساتھ ہی علماء اور مفسرین اس امر کا بھی برملا اقرار کرتے ہیں کہ اس میں کوئی نیا حکم نہیں ملتا۔بلکہ اس میں تاکید ملتی ہے کہ شریعت تو رات پر عمل کیا جائے۔چنانچہ آیت وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا (النساء آیت : 162) کے تحت لکھا ہے: اسم لِلْكِتَابِ الَّذِى أُنْزِلَ عَلى دَاوُدَ وَ هُوَ مِئَةٌ وَ خَمْسُونَ سُوْرَةً لَيْسَ فِيْهَا حُكْمٌ وَلَا حَلَالٌ وَلَا حَرَامٌ بَلْ كُلُّهَا تَسْبِيْحٌ وَتَقْدِيْسٌ وَتَمْجِيْدٌ وَ ثَنَاءٌ عَلَى اللهِ تَعَالَى وَ مَوَاعِظُ (تفسیر الخازن جزء 1 صفحه : 519 و تفسیر الفتوحات الالهية جزء 1 صفحه : 470) کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد (ال) پر اتاری گئی۔اس کی ایک سو پچاس سورتیں ( باب ) ہیں ان میں کوئی نیا حکم نہیں اور نہ ہی حلال اور حرام کا بیان ہے بلکہ وہ تمام کی تمام تسبیح و تقدیس اور خدا تعالی کی حمد وثنا اور وعظ پر مشتمل ہیں۔قریباً یہی مضمون حاشیہ الجلالین الشیخ احمد الصاوی جزء 1 صفحہ : 225 میں بھی موجود ہے۔پس واضح ہو گیا کہ زبور ایک کتاب ہے لیکن اس میں کوئی نیا حکم نہیں پایا جاتا اور نہ ہی حلال و حرام کے متعلق کوئی نئی بات ہے۔اسی طرح سورۃ آل عمران آیت 184 میں الزبر کے ماتحت لکھا ہے: الرُّبُرُ الكُتُبُ الْمَقْصُورَةُ عَلَى الْحِكَمِ وَالْمَوَاعِظِ وَالْكِتَابُ الْمُنِيرُ الْوَاضِحُ الْمَعْنَى الْمُتَضَمِّنُ للشَّرَائِعِ وَالْاحْكامِ۔“ ( تفسیر جامع البيان للعلامه معین بن صفی صفحه : 66)