وحی و الہام

by Other Authors

Page 34 of 76

وحی و الہام — Page 34

34 7 انبیاء علیہم السلام پر غیر تشریعی وحی : قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک نبی سے کلام کیا ، ان میں سے بعض نبی ایسے تھے جنہیں شریعت عطا کی گئی تھی اور بعض ایسے تھے جنہیں کوئی نئی شریعت عطا نہیں کی گئی تھی۔اس طرح وحی بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔چنانچہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ متبوع یا تشریعی نبی کی طرف جو کلام الہی نازل ہوا وہ وحی ہے، اور جو تابع یا غیر تشریعی نبی کی طرف نازل ہوا وہ وجی نہیں۔خدائے پاک کا کلام ہونے کی وجہ سے دونوں ہی وحی ہیں۔انہی لغوی معنی میں اگر کتاب کا نام دیا جائے تو بھی صحیح ہے اور اس لحاظ سے ہر ایک نبی کتاب لایا ہے۔لیکن قرآنی اصطلاح میں 'الکتاب وحی تشریعی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کتاب شریعت کہلائے گی اور دوسری محض الکتاب کے نام موسوم نہ ہوگی۔علمائے اسلام نے اس موضوع پر بخشیں اٹھائی ہیں۔چنانچہ حضرت امام رازی فرماتے ہیں: ”وَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْهُدى وَالذِّكْرَى اَنَّ الْهُدى مَا يَكُوْنُ دَلِيْلًا عَلَى الشَّيْءِ وَ لَيْسَ مِنْ شَرْطِهِ أَنْ يَذْكُرَ شَيْئًا أَخَرَ كَانَ مَعْلُوْمًا ثُمَّ صَارَ مَنْسِيًّا وَأَمَّ الذِّكْرَى فَهِيَ الَّذِي يَكُونُ كَذَلِكَ فَكُتُبُ انْبِيَاءِ اللَّهِ مُشْتَمِلَةٌ عَلَى هَذَيْنِ الْقِسْمَيْنِ بَعْضُهَا دَلَائِلُ فِي أَنْفُسِهَا وَ بَعْضُهَا مُذَكَّرَاتٌ لِّمَا وَرَدَ فِي الْكُتُبِ الْإِلَهِيَّةِ الْمُتَقَدِّمَةِ “ (التفسير الكبير جزء 27 صفحه : 68 سورۃ المومن زیر آیت هدی و ذکری لاولی الالباب) کہ الھدی اور الذکری کا فرق یہ ہے کہ الھدی اس کو کہتے ہیں جو کسی چیز پر بطور دلیل ہو اور اس میں کوئی شرط نہیں کہ وہ کوئی ایسی بات ذکر کرے جو پہلے معلوم تھی اور پھر بھلا دی گئی لیکن الذکری سے یہی مراد ہے پس انبیاء کی کتابیں ان دونوں قسموں پر