وحی و الہام

by Other Authors

Page 36 of 76

وحی و الہام — Page 36

36 کہ الزہر سے مراد وہ کتا بیں ہیں جو صرف حکمتوں اور نصائح پر مشتمل ہیں اور الکتاب المنیر سے وہ کتاب جو واضح ہے اور شرائع اور احکام اپنے اندر رکھتی ہے۔" علامہ ابوالسعودآیت جَاوُا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ “ کے ماتحت لکھتے ہیں: وَالْكِتَابُ فِي عُرُفِ الْقُرْآنِ مَا يَتَضَمَّنُ الشَّرَائِعَ وَالْاحَكَامَ “ (حاشيه النفير الكبير جزء 3 صفحہ 3) کہ الکتاب عرف قرآن میں اس کتاب الہی کو کہا جاتا ہے جس میں ( نئے ) شرعی احکام ہوں۔“ ان حوالجات سے ظاہر ہے کہ زبور اور الز بُر وہ صحائف ہیں جو انبیاء کو دیئے گئے لیکن ان میں کوئی نیا حکم اور نئی شریعت نہ تھی۔حالانکہ انہیں کتاب کا نام دیا جاتا ہے۔بعض علماء نے کتاب کو صرف اس وحی کے لئے مخصوص قرار دے دیا ہے جس میں کوئی نئی شریعت پائی گئی ہو یا نئے احکام ملتے ہوں۔لیکن یہ ان کی اپنی تشریح اور اپنے معنے ہیں۔اس لئے انہیں صرف عرفی معنے قرار دیئے جائیں گے۔حضرت امام راغب اصفہائی اپنی مفردات میں زیر لفظ زبور تحریر فرماتے ہیں: وَقَالَ بَعْضُهُمْ الزَّبُوْرُ اسْمٌ لِلْكِتَابِ الْمَقْصُوْرِ عَلَى الْحِكَمِ الْعَقْلِيَّةِ دُونَ الاحْكامِ الشَّرْعِيَّةِ وَالْكِتَابُ لِمَا يَتَضَمَّنُ الاحْكامَ وَالْحِكَمَ وَيَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ أَنَّ زُبُوْرَ دَاوُدَ عليه السلام لَا يَتَضَمَّنُ شَيْئًا مِّنَ الْاحْكام “ یعنی بعض علماء کا کہنا ہے کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جس کا بیان عقلی حکمتوں تک محدود ہے ، اس میں احکام شرعیہ نہیں پائے جاتے اور الکتاب اس کو کہتے ہیں جس میں احکام بھی ہوں اور حکمتیں بھی ہوں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت داؤد الﷺ کی زبور