وحی و الہام — Page 71
71 :11 مسیح موعود کا منصب و مقام وحی کے ذریعہ بیان شریعت ہے (۱) حضرت امام ملا علی القاری " مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد 5 صفحہ 564 پر لکھتے ہیں:۔أَقُولُ لَا مُنَافَاةَ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا وَيَكُونَ تَابِعًا لِنَبِيِّنَا صَلَّى الله عليه وسلّم فِي بَيَان أَحْكامِ شَرِيْعَتِهِ وَاتْقَان طَرِيْقَتِهِ وَلَوْ بِالْوَحْيِ إِلَيْهِ كَمَا يُشِيْرُ إِلَيْهِ قَوْله صلى الله عليه وسلم لو كان مُوسَى حَيَّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتَّبَاعِيِّ، أَيْ مَعَ وَصْفِ النُّبُوَّةِ والرِّسَالَةِ وَ إِلَّا فَمَعَ سَلْبِهِ لَا يُفِيْدُ زِيَادَةِ الْمَزِيَّةِ “ کہ میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح کہ نبی ہونے اور آنحضرت ﷺ کے تابع ہو کر احکام شریعت کے بیان اور آپ کے طریقوں کے پالنہ کرنے میں کوئی منافات موجود نہیں۔خواہ وہ اس وحی سے یہ کام کریں جو اُن پر نازل ہو۔جیسا کہ اس کی طرف رسُول اللہ ﷺ کا قول اشارہ کرتا ہے کہ اگر موٹی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔مراد یہ ہے کہ وصف نبوت اور رسالت کے ساتھ (میرے تابع ہوتے۔ناقل ور نہ سلب نبوت ( نبوت چھینا جانے) کے ساتھ تابع ہونا آنحضرت ﷺ کی فضیلت کا فائدہ نہیں دیتا۔حضرت امام علی القاری” کی اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ مسیح موعود کی وحی کو جو احکام شریعت پر مشتمل ہو بیانِ احکام شریعت ہی قرار دیا گیا ہے اور اس وحی کے باوجود مسیح موعود کو تابع نبی ہی قرار دیا گیا ہے۔نہ کہ تشریعی نبی۔(۲) حضرت امام عبدالوہاب الشعرائی اپنی کتاب ” الکبریت الاحمر“ کے صفحہ 10 پر فرماتے ہیں: فَإِنَّ الْوَحْيَ الْمُتَضَمِّنَ لِلتَّشْرِيْعِ قَدْ أُغْلِقَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ عَ وَلِهَذَا كَانَ