وحی و الہام

by Other Authors

Page 37 of 76

وحی و الہام — Page 37

37 میں احکام (جدیدہ ) نہیں پائے جاتے۔یہاں خدا تعالیٰ کے ایک فرمان کی وضاحت ضروری ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ اس نے انبیاء کو مبعوث کیا تو انزَلَ مَعَهُمُ الكِتابَ ( سورة البقرہ آیت 213) ان کے ساتھ کتاب بھی نازل فرمائی۔( نیز دیکھئے سورۃ الحدید آیت 25) یہاں اگر الکتاب سے مراد کلام الہی لیا جائے تو کوئی مشکل پیش نہیں آتی کیونکہ بیشک ہر ایک نبی سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہوا اور اسے کثرت کے ساتھ مکالمہ و مخاطبہ الہیہ کا شرف عطا ہوا۔لیکن الکتاب سے اگر مراد وہ وجی لی جائے جو نئے احکام اور شرائع پرمشتمل ہو تو پھر تمام انبیاء کو کتاب دیئے جانے کا مطلب بیان کرتے ہوئے علامہ آلوسی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يَا خُذُ الاحكامَ اِمَا مِنْ كِتَابِ يَخُصُّهُ أَوْ مِنْ كِتَابِ مَنْ قَبْلَهُ (روح المعانی جلد 2 صفحه 101 زیر آیت وَ أَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ ) کہ ہر ایک نبی احکام اخذ کرتا تھایا تو اپنی اس کتاب سے جو اس پر نازل ہوئی ہوتی یا اپنے سے کسی پہلے نبی کی کتاب سے۔“ علامہ معین بن صفی اپنی تفسیر (جامع البیان ) میں اسی آیت کی ذیل میں لکھتے ہیں کہ انزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَاب کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک نبی پر الگ الگ کتاب نازل ہوئی۔وو إِذْ لَمْ يَكُنْ لِبَعْضِهِمْ كِتَابٌ وَإِنَّمَا كَانُوا يَأْخُذُونَ بِكُتُبِ مَنْ قَبْلَهُمْ کیونکہ بعض انبیاء کی کوئی کتاب نہ تھی وہ صرف اپنے سے پہلے انبیاء کی کتابوں سے احکام اخذ کیا کرتے تھے۔