وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 49 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 49

۴۹ قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تونی اللہ بشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جاندار غیر منقولہ جو دس ہزار کے قریب ہوگی اس کے حوالہ کر ڈونگا جس طور سے اُس کی تسلی ہو سکے اسی طور سے تاوان ادا کرنے میں اس کو تستی دونگا میرا خُدا واحد شاہد ہے کہ میں ہرگز فرق نہیں کرونگا اور اگر سزائے موت بھی ہو تو بدل وجان روا رکھتا ہوں۔( آئینہ کمالات اسلام ) نیز فرمایا : پادریوں کی تکذیب انتہا تک پہنچ گئی تو خدا نے محبتِ محمدیہ پوری کرنے کے لیے مجھے بھیجا۔اب کہاں ہیں پادری تا میرے مقابل پر آدیں، میں بے وقت نہیں آیا ، میں اس وقت آیا کہ جب اسلام عیسائیوں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔بھلا اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔یاد رکھو وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گزر گیا اب وہ زمانہ آگیا جبیں میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی میں کو گالیاں دی گئیں جس کے نام کی بے عزتی کی گئی جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتا ہیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کردیں۔وہی سچا اور سچوں کا سردار ہے۔اُس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا ، گھر آخر اسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیپ اُس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں۔۔۔۔( (حقیقة الوحی ص ۲۷۳ ص ۲۷۲