وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 42 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 42

(CARL GOTTLIEB PHANDER) صلیبی جنگ شروع ہوگئی اور کارل گوتلیب فینڈر ) جیسے نو نخوار پادری نے اور یے میں مسلمانوں پر یہ کہتے ہوئے ٹوٹ پڑے کہ آپ کو خداوند یسوع مسیح کلمتہ اللہ اور (حضرت محمد بن عبداللہ میں سے ایک کو پسند کرنا ہے، دیگر تمام انبیاء وفات پاگئے، لیکن قرآن بتا تا ہے کہ خداوند یسوع مسیح زندہ ہی آسمان پر اٹھالیا گیا اور مسلمان مسیحیوں کے ساتھ متفق ہو کر اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ ہے۔قریش نے رحضرت محمدؐ سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ طلب کیا تھا اس کے جواب میں (حضرت محمد کو یہ کہنے کا حکم ملا کہ آپ محض انسان تھے اس لیے اُن کا طلب کردہ معجزہ نہیں دکھا سکتے تھے۔اس پیسے ثابت ہوا کہ انہوں نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا تھا۔پادری فینڈر نے یہ بھی لکھا ہے کہ قبر اور موت اب تک (حضرت محمد پر قابض ہیں۔مدینہ میں ان قبروں کے درمیان میں (حضرت محمد والو تکبر مدفون میں ایک قبر خالی ہے جس کو مسلمان ہمارے خداوند یسوع مسیح ابن مریم کی قبر کہتے ہیں۔اس تقریں کوئی دن نہیں کیا گیا اور اس کا خالی ہونا حاجیوں کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ مسیح زندہ ہے اور (حضرت محمد مردہ ہیں بتاؤ دونوں میں سے کون آپ کی مدد کرنے کی زیادہ قابلیت رکھتا ہے۔آپ مانتے ہیں کہ خداوند مسیح پھر آئیگا اور آپ اُس کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔بیسوع مسیح خداوند ہے۔کسی نہ کسی روزہ آپ کو ضرور اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوں گے۔ابھی سے کیوں نہیں۔) ملخص از ترجمه ار دو میزان الحق مولفه پادری فینڈر شاه) ی رسوائے عالم کتاب ارمینی ترکی، تاتاری، فارسی اور اگر دو بانوں میں چھپی اور ممالک اسلامیہ میں بڑی کثرت سے تقسیم کی گئی۔ایک اور پادری غلام سیخ پاسٹر انبار شہر جریج نے اپنی کتاب مذہب اسلام میں نہایت بے باکی سے عقیدہ حیات مسیح کی بنا پر یہ دعویٰ کیا کہ در اصل خداوند یسوع