وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 41
حیات مسیح کے مسیحی نظریہ پر ضرب کاری لگانے کے لیے اُس دور کے بعض عظیم اقتربیت بزرگوں مثلاً حضرت داتا گنج بخش رمتوفی ۴۷۵ھ) اور مجدد است حضرت علامہ جلال الدین سیوئی (متوفی 911ھ) کی تحریرات میں ایک لطیف اشارہ ملتا ہے اور وہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ شب معراج میں شاہ لولاک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور دوسرے نبیوں کی روحوں سے ملاقات کی تھی نہ کہ خاکی حیم سے۔(کشف المجوب بیان فی کلام الروح" خصائص الکبری لیولی بعدا ما مگر بعض بزرگوں نے چین میں حضرت ابن حزر مردم توی شه) شد کی شخصیت نمایاں ہے زور شور سے وفات مسیح کے حق میں آواز بلند کی۔چنانچہ انہوں نے المحلى جلد اصل میں لکھا: ص " إِنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلام لَمْ يُقْتَلُ وَكَ يُصْلَبُ وَلكِن توفاه اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تُم رَفَعَهُ إِلَيْهِ۔یعنی حضرت علی علیہ السلام نہ قتل کئے گئے نہ ملیب پر مارے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو پہلے وفات دی پھر اپنی طرف اُٹھالیا۔نظریہ حیات مسیح کے ہولناک نتائج تیرھویں صدی ہجری میں ان سب مشاق مصطفے کایہ عظیم کا رنامہ آب زر سے لکھا جانا چاہیئے کہ انھوں نے وفات مسیح کے اُس مورچے کو نہیں چھوڑا جس پر ڈٹے رہنے کا حکم حضرت حساتم الانبیاء محمد مصطفے اصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک سنت کے ذریعہ نجران کے بعد بانی تھے سے گفتگو کے دوران دیا تھا ، لیکن آہ ! جس طرح درۂ احد کی حفاظت ہے۔صحابہ کی جہاں فروشی کے باوجود دشمنان اسلام حملہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ، اسی طرح تیرھویں صدی ہجری میں عیسائیت کا شکر وفات مسیح کے محاذ کو خالی پاکر سیاہ بادلوں کی صورت میں اُٹھا اور قیامت خیز طوفان بن کر دنیا پر چھا گیا عالمی سطح پر ایک نئی